Qari ismail (R)
Irfan Munir
0:00 / 0:00
Qari ismail (R)
34 просмотра · 2 недели назад
Irfan Munir
156 подписчиков
34 просмотра · 2 недели назад
حضرت عزیر علیہ السلام سو سال بعد گھر واپس کیسے پہچانے گئے؟
حضرت عزیر علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ ایک مرتبہ آپ ایک ویران بستی کے قریب سے گزرے۔ وہاں تباہی اور بربادی کا منظر دیکھ کر آپ نے تعجب سے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ اس بستی کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ فرمائے گا؟"
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ایک عظیم نشان دکھانے کے لیے حضرت عزیر علیہ السلام کو سو سال کے لیے موت کی حالت میں رکھا، پھر انہیں دوبارہ زندہ فرمایا۔
جب حضرت عزیر علیہ السلام بیدار ہوئے تو انہیں گمان ہوا کہ شاید ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزرا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم پر سو سال گزر چکے ہیں۔
سو سال بعد جب حضرت عزیر علیہ السلام اپنے گھر واپس پہنچے تو حالات بالکل بدل چکے تھے۔ ان کے گھر والے بھی دنیا سے جا چکے تھے اور نسلیں بدل چکی تھیں۔
روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت عزیر علیہ السلام اپنی بستی میں پہنچے تو لوگ انہیں پہچان نہ سکے۔ ایک بوڑھی عورت، جو انہیں ان کی زندگی میں جانتی تھی، اس نے ان کی نشانیاں بیان کیں۔ پھر جب حضرت عزیر علیہ السلام نے وہ نشانیاں پوری کر دیں تو لوگوں کو یقین ہونے لگا کہ یہ وہی عزیر ہیں۔
یہ واقعہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایسا سبق دیتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے: جس رب نے ایک انسان کو سو سال بعد دوبارہ زندہ کر دیا، وہ قیامت کے دن پوری انسانیت کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
اور جہاں تک گواہوں اور تحریری ثبوت، یعنی اسٹامپ پیپر کا تعلق ہے، یہ بات حضرت عزیر علیہ السلام کے قرآنِ کریم میں بیان کردہ اصل واقعے کا حصہ نہیں ہے۔ اس طرح کی تفصیلات بعض عوامی روایات یا بیانوں میں ملتی ہیں، اس لیے انہیں بیان کرتے وقت احتیاط ضروری ہے کہ انہیں قطعی اور مستند واقعہ نہ سمجھا جائے۔
واقعی یہ واقعہ دل کو جھنجھوڑ دینے والا ہے۔ سو سال گزر گئے، گھر بدل گیا، لوگ بدل گئے، زمانہ بدل گیا، مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت نہ بدلی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی قدرت پر کامل ایمان رکھنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔