امام حسینؑ کا خطبۂ منیٰ: علماء کے نام ایک اہم پیغام | حق پر قیام: خطبۂ منیٰ کا مرکزی پیغام
Life Programming
0:00 / 0:00
امام حسینؑ کا خطبۂ منیٰ: علماء کے نام ایک اہم پیغام | حق پر قیام: خطبۂ منیٰ کا مرکزی پیغام
387 просмотров · 3 мес. назад
Life Programming
2,7 тыс. подписчиков
387 просмотров · 3 мес. назад
کربلا سے پہلے منیٰ میں امام حسین علیہ السلام نے امت کے علماء اور اکابرین سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے قرآن کی ان آیات کی طرف توجہ دلائی جن میں اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود کی مذمت فرمائی ہے۔ ان کی مذمت علم کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کی گئی کہ وہ اپنے سامنے ظلم، فساد اور منکرات دیکھتے تھے مگر دنیاوی مفادات اور ظالموں کے خوف کی وجہ سے انہیں روکنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔
امام حسین علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر دین کا بنیادی فریضہ ہے۔ اگر یہ فریضہ معاشرے میں قائم ہو جائے تو دین کے تمام احکام اور الٰہی نظام خود بخود قائم ہو جاتے ہیں۔ یہی فریضہ اسلام کی دعوت، ظلم کے مقابلے، مظلوم کے حقوق کی بحالی اور عدل کے قیام کی بنیاد ہے۔
اس کے بعد امامؑ نے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ عوام تمہارا احترام اس لیے کرتے ہیں کہ وہ تمہیں حق کا علمبردار سمجھتے ہیں، لیکن تم نے ائمہؑ کے حقوق، کمزوروں کے حقوق اور حق پر قیام کی ذمہ داری کو نظر انداز کر دیا۔ تم نے نہ دین کے لیے مال قربان کیا، نہ جان خطرے میں ڈالی، نہ اللہ کی راہ میں کسی باطل قوت سے ٹکر لی، پھر بھی جنت اور نجات کی امید رکھتے ہو۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ نے امت کے دینی اور اجتماعی امور علماء کے سپرد کیے تھے، لیکن جب علماء حق سے ہٹ گئے، دنیا کو ترجیح دی، موت سے ڈر گئے اور ظالموں سے سمجھوتہ کر لیا تو ان کی یہ منزلت ان سے چھن گئی۔ نتیجتاً ظالم حکمران امت پر مسلط ہو گئے اور کمزور لوگ ظلم و استبداد کا شکار بن گئے۔
سید جواد نقوی اس پورے خطبے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ "عالم کی پہچان علم نہیں، حق ہے۔" علم کی اصل قدر اسی وقت ہے جب وہ حق کی پہچان، حق کی حمایت اور حق پر استقامت کا ذریعہ بنے۔ اگر علم انسان کو حق سے دور کر دے تو وہ نجات کا وسیلہ نہیں رہتا۔
اسی لیے کربلا کی بنیاد بھی حق پر قیام ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے یہ واضح کر دیا کہ اللہ کے نزدیک معیار شہرت، منصب یا علم کی کثرت نہیں، بلکہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ جب حق کو زندگی کا معیار بنا لیا جائے تو امر بالمعروف زندہ ہوتا ہے، عدل قائم ہوتا ہے، ظلم کا راستہ رکتا ہے اور یہی وہ پیغام ہے جس کے لیے امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے اصحاب کی قربانی پیش کی۔