Arsh-e-Haq Hai | Kalam e Raza with Tazmeen e Burhan | Allama Ashfaq Attari Madani
Mufti Rashid Ali Attari
0:00 / 0:00
Arsh-e-Haq Hai | Kalam e Raza with Tazmeen e Burhan | Allama Ashfaq Attari Madani
65 просмотров · 18 часов назад
Mufti Rashid Ali Attari
6,69 тыс. подписчиков
65 просмотров · 18 часов назад
تضمینِ بُرہان بَر کلامِ امام احمد رضا خان
(عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی)
تضمین نگار✍️: ابو الحقائق مفتی راشد علی قادری رضوی عطاری
(1)کس قدر ہے دِل نشیں صورت رسول اللہ کی
رُوح پروَر ہے بڑی رنگت رسول اللہ کی
قابلِ صد رشک ہے شوکت رسول اللہ
عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی
دیکھنی ہے حشر میں عزّت رسول اللہ کی
(2)دو جہاں میں ہو رہے ہیں خوب چرچے نور کے
زندگی بھر گائیں گے ہم تو ترانے نور کے
ہم کو برزخ میں میسر ہوں گے جلوے نور کے
قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نُور کے
جلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسول اللہ کی
(3)مومنوں کے واسطے ذاتِ نبی ہے فضلِ رَبّ
دو جہاں میں رحمتِ حق کا ہوئی ہے جو سبب
قہر کا ہے مستحق ، ذاتِ نبی کا بے ادب
کافروں پر تیغِ والا سے گِری برقِ غضب
اَبر آسا چھا گئی ہیبت رسول اللہ کی
(4)خَلق میں ہر ایک کو فضلِ خُدا ان سے ملا
سائلوں کو بے عدد اور بے بہا ان سے ملا
الغرض! مخلوق کو بے انتہا ان سے ملا
لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو مِلا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
(5)مشکلوں میں وہ پھنسا ، جو اُن سے مستغنی ہوا
قعرِ ذلّت میں گِرا ، جو اُن سے مستغنی ہوا
مستحق ہے قہر کا ، جو اُن سے مستغنی ہوا
وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی
(6)فضلِ حق سے مُصطفٰی کی سارے عالم میں ہے دَھاک
ان کا مُنکر اور دُشمن دو جہاں میں ہے ہلاک
قُدرتِ حق کا بنا مَظھر نبی کا دَستِ پاک
سُورج اُلٹے پاؤں پلٹے چاند اِشارے سے ہو چاک
اندھے نجدی دیکھ لے قدرت رسول اللہ کی
(7)ذِکرِ محبوبِ خُدا سے ہر بَلا کافور ہو
نعت خوانی سے ہر اک قلبِ حَزیں مسرور ہو
سُنّیوں پر فضلِ ربِّ مُصطفٰی بھرپور ہو
تجھ سے اور جنّت سے کیا مطلب وہابی دُور ہو
ہم رسول اللہ کے جنّت رسول اللہ کی
(8)رات دِن سرکار کی تنقیص میں کوشاں رہے
بدنصیبی اور گمراہی پہ خوش ، ناداں رہے
کفر کی تاریک وادی میں یہ سرگرداں رہے
ذِکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں امّت رسول اللہ کی
(9)جانِ عالَم سے ہیں قائم ، قصرِ عالَم کے سُتُوں
جن کے ذکرِ پاک سے پاتے ہیں مُضطَر دِل سُکوں
ان کی رفعت کے مُقابِل آسماں بھی ہے نِگُوں
ہم بھکاری وہ کریم اُن کا خدا اُن سے فُزُوں
اور نا کہنا نہیں عادت رسول اللہ کی
(10)مرکزِ کون و مکاں بیشک ہے محرابِ حضور
دلنشیں قُرآن میں آئے ہیں اَلقابِ حضور
اہلِ سنّت کو ملی توفیقِ آدابِ حضور
اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
(11)خوش نصیبی سے نبی کے ہجر میں رونا ملا
جامِ اُلفت پی کے اُن کی یاد میں کھونا ملا
خاکِ طیبہ کی بدولت خُلد کا سونا ملا
خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا مِلا
جان کی اِکسیر ہے اُلفت رسول اللہ کی
(12)گرچہ ہوں حَد سے سِوا سارے گنہگاروں کے جرم
کچھ نہیں ہیں عَفْو کے آگے خطاکاروں کے جرم
کالعدم ہو جائیں گے فوراً جفا کاروں کے جرم
یاربّ اِک ساعت میں دُھل جائیں سیہ کاروں کے جرم
جوش میں آجائے اب رحمت رسول اللہ کی
(13)اِنْس و جاں ، حُور و مَلک ہر اِک ہے شیدائے حضور!
نورِ حق سے ہیں منوَّر سارے اعضائے حضور!
ہے نشانِ راہِ حق ، نقشِ کفِ پائے حضور!
ہے گلِ باغِ قُدُس رُخسارِ زَیبائے حضور!
سروِ گلزارِ قِدَم قامت رسول اللہ کی
(14)شانِ سلطانِ جہاں کا ہے جہاں بھر میں ظہور
حق تعالیٰ کی ہے نعمت ، نعت خوانی کا شعور
نعت گوئی میں بھی ہے بُرہاں عجب کیف و سرور
اے رضا خود صاحبِ قُرآں ہے مدّاحِ حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی
بروز منگل ، 9 ربیع الثانی 1448ھ ، مطابق 22ستمبر 2026ء.
For feedback only on WhatsApp number ↘️↘️
+923352000243