Перейти к содержимому

Ep 3: Abbottabad to Ratti gali lake | Teetwal LoC Sector | Muzaffarabad to Teetwal Sector

Travel with Naveed

0:00 / 0:00

Ep 3: Abbottabad to Ratti gali lake | Teetwal LoC Sector | Muzaffarabad to Teetwal Sector

17 просмотров · 23 часа назад
Travel with Naveed
3,36 тыс. подписчиков
17 просмотров · 23 часа назад
سفر کشمیر۔ رتی گلی۔۔ تیسری قسط 🇵🇰🇮🇳 لائن آف کنٹرول — کشمیر کے سینے پر کھینچی گئی ایک لکیر کشمیر کی خوبصورت وادیوں، بلند پہاڑوں اور دریاؤں کے درمیان ایک ایسی لکیر بھی ہے جسے دنیا Line of Control (LoC) کے نام سے جانتی ہے۔ یہ تقریباً 740 کلومیٹر طویل حدِ فاصل ہے جو کشمیر کے مختلف علاقوں کو دو انتظامی حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ 1972 کے شملہ معاہدے کے بعد سابقہ جنگ بندی لائن کو ’’لائن آف کنٹرول‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن نقشے پر کھینچی گئی یہ لکیر صرف زمین کو نہیں بانٹتی؛ اس کے دونوں طرف رہنے والے بہت سے کشمیری خاندانوں کی رشتے داریاں، یادیں اور روزمرہ زندگی بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں۔ ❤️ ٹیٹوال سیکٹر — جہاں دریا بھی کہانی سناتا ہے لائن آف کنٹرول کے اہم علاقوں میں ٹیٹوال (Tithwal/Teetwal) کا خصوصی مقام ہے۔ یہاں پاکستان کی طرف چلیانہ/چلّیانہ (Chilhana) اور دوسری طرف ٹیٹوال کے علاقے کو دریائے نیلم، جسے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں کشن گنگا کہا جاتا ہے، جدا کرتا ہے۔ کبھی یہ علاقے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ خاندانوں کے رشتے دونوں طرف تھے، لوگ تجارت اور تعلیم کے لیے ایک دوسرے کے علاقوں میں آتے جاتے تھے۔ 1931 میں یہاں ایک پل بھی تعمیر کیا گیا تھا، جو بعد کے تنازعات میں تباہ ہوا اور 1988 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ آج اسی دریا کے دونوں کناروں پر ایسے خاندان موجود ہیں جن کے اپنے عزیز سامنے نظر آ سکتے ہیں، مگر ان تک پہنچنا آسان نہیں۔ رائٹرز کی 2022 کی رپورٹ میں ٹیٹوال کے ایک خاندان کی کہانی سامنے آئی جس کے کچھ افراد ایک طرف اور دوسرے رشتہ دار دریائے نیلم کے دوسری طرف رہتے تھے۔ ایک مقامی بزرگ نے اس صورتحال کو یوں بیان کیا کہ لکیر ان کے دلوں کے درمیان سے گزرتی ہے۔ 💔 سوچئے… ایک ہی خاندان، دو طرف کئی کشمیری مسلمان خاندانوں کے لیے یہ صرف سرحد یا فوجی چوکی کا معاملہ نہیں بلکہ بچھڑے ہوئے رشتوں کی داستان ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کو دریا کے اُس پار دیکھ سکتی ہے، ایک بھائی اپنے بھائی کا گھر دیکھ سکتا ہے، ایک خاندان اپنے رشتہ داروں کی آواز سن سکتا ہے، مگر درمیان میں کھینچی گئی لکیر ملاقات کی اجازت نہیں دیتی۔ فاصلہ کبھی کبھی کلومیٹرز میں نہیں ہوتا؛ کبھی ایک دریا، ایک چوکی اور ایک لکیر پوری دنیا جتنا فاصلہ بن جاتی ہے۔ ٹیٹوال کے بارے میں رائٹرز کی رپورٹ میں ایسے خاندانوں کا ذکر ہے جو برسوں سے ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے بھی آزادانہ طور پر مل نہیں سکتے۔ 🕊️ سرحدیں اپنی جگہ، انسان اپنی جگہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف رہنے والے عام لوگوں نے دہائیوں تک کشیدگی، فائرنگ، نقل مکانی اور خوف کا سامنا کیا ہے۔ 2021 میں جنگ بندی کی تجدید کے بعد LoC کے کئی علاقوں میں نسبتاً سکون آیا، جس سے مقامی آبادی کو روزمرہ زندگی دوبارہ معمول پر لانے کا موقع ملا۔ ٹیٹوال ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ نقشے پر بننے والی لکیریں ملکوں کو تقسیم کر سکتی ہیں، لیکن رشتے، یادیں اور انسانی جذبات اتنی آسانی سے تقسیم نہیں ہوتے۔ 🌿 کشمیر کے پہاڑ خاموش ہیں، نیلم کا پانی بہہ رہا ہے، مگر دونوں کناروں پر بچھڑے خاندانوں کی کہانیاں آج بھی سنائی دیتی ہیں۔ آپ کے خیال میں ٹیٹوال جیسے علاقوں میں بچھڑے خاندانوں کے درمیان انسانی رابطے اور ملاقاتوں کے مواقع کیسے بڑھائے جا سکتے ہیں؟ #LineOfControl #LoC #Tithwal #Teetwal #Tetwal #Chilhana #NeelumValley #Kashmir #KashmirHistory #AzadKashmir #Kashmiris #TravelWithNaveed