عثمانؓ نے قرآن کیوں جلائے؟ وہ کیا چھپا رہے تھے؟
The Missing Dots
0:00 / 0:00
عثمانؓ نے قرآن کیوں جلائے؟ وہ کیا چھپا رہے تھے؟
24 455 просмотров · 6 дн. назад
The Missing Dots
11,3 тыс. подписчиков
24 455 просмотров · 6 дн. назад
عثمانؓ نے قرآن کیوں جلائے؟ وہ کیا چھپا رہے تھے؟ یہ سوال صدیوں سے تاریخ اور اسلامی علوم کے طالب علموں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس ویڈیو میں ہم جذباتی دعووں کے بجائے معتبر تاریخی روایت، خصوصاً صحیح بخاری کی روایت، کی روشنی میں اس واقعے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
حضرت حذیفہؓ نے مختلف علاقوں کے مسلمانوں میں قراءت کے اختلافات دیکھے تو حضرت عثمانؓ کو اس معاملے کی طرف متوجہ کیا۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے حضرت حفصہؓ کے پاس موجود صحیفوں سے مصاحف تیار کروائے اور مختلف علاقوں میں نسخے بھیجے۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ دوسرے تحریری قرآنی مواد کو جلانے کا حکم دیا گیا۔
تو اس فیصلے کے پیچھے اصل مقصد کیا تھا؟ کیا واقعی کچھ چھپایا جا رہا تھا، یا معاملہ امت میں قراءت کے اختلاف کو روکنے اور ایک معیاری مصحف کی ترسیل کا تھا؟ مکمل پس منظر، اہم روایات اور تاریخی سوالات کو جاننے کے لیے ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔
#uthmanibnaffan
#quranhistory
#islamichistory
#themissingdots
#sunni #shia
#islamhistory
#quran
#islam
#islamicdebate
#muslimhistory
برمنگھم کے اوراق (Mingana Isl. Arab. 1572a) (تقریباً 568ء – 645ء)
حجازی رسم الخط میں لکھا گیا قدیم ترین نسخہ جو سورۃ الکہف، مریم اور طٰہٰ پر مشتمل ہے
۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے مطابق یہ دورِ نبوی کا ہے اور عثمانی متن سے 100 فیصد مطابقت رکھتا ہے
۔
صنعاء کا پلimpsest (DAM 01-27.1) (تقریباً 606ء – 669ء)
یمن سے ملنے والا دہرے متن کا نسخہ
۔ اس کی نچلی تحریر (Scriptio Inferior) عثمانؓ سے پہلے کے شخصی نسخوں کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اوپری تحریر (Scriptio Superior) مکمل طور پر معیاری عثمانی متن پر مبنی ہے
۔
مصحفِ عثمانی / مصاحفِ امصار (تقریباً 650ء / 30 ہجری)
خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں زید بن ثابتؓ کی کمیٹی کے تحت تیار کردہ معیاری نسخے جو مختلف اسلامی شہروں میں بھیجے گئے
۔
ٹوپکاپی اور تاشقند (سمرقند) کے نسخے (پہلی سے دوسری صدی ہجری / 8ویں صدی عیسوی)
کوفی اور حجازی رسم الخط میں لکھے گئے قدیم بڑے نسخے جو عثمانی متن کی عالمگیر اور مستقل حفاظت کی تائید کرتے ہیں
۔
صحیح البخاری و صحیح مسلم (تیسری صدی ہجری / 9ویں صدی عیسوی)
بنیادی کتبِ حدیث جن میں تدوینِ قرآن (دورِ ابوبکرؓ و عثمانؓ) اور جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سالانہ دوہرائے جانے (العرضۃ الاخیرہ) کی تفصیلات محفوظ ہیں
۔
سنن ابنِ ماجہ و مسندِ احمد (تیسری صدی ہجری / 9ویں صدی عیسوی)
کتبِ حدیث جن میں ابتدائی تحریری یادداشتوں اور متنازعہ روایات (جیسے بکری والی روایت) کو سند اور متن کے اصولوں (ICMA) کے تحت پرکھا گیا ہے
۔
کتاب المصاحف — ابنِ ابی داؤد (وفات 316 ہجری / 928ء)
صحابہ کرام کے شخصی نسخوں (مصاحفِ صحابہ)، لغوی اختلافات اور تحریری حواشی پر مشتمل بنیادی کلاسیکی کتاب
۔
التمہید — قاضی ابو بکر الباقلانی (وفات 403 ہجری / 1013ء)
التواتر کے اصول پر مبنی قرآن کریم کی حفاظت اور تحریف کے شکوک و شبہات کا علمی و عقلی دفاع
۔
التبیان فی تفسیر القرآن — شیخ الطوسی (وفات 460 ہجری / 1067ء)
امامیہ مکتبِ فکر کی بنیادی تفسیر جس میں عثمانی متن کی مکمل حفاظت اور عدمِ تحریف کی تصدیق کی گئی ہے
۔
البرہان (الزرکشی، وفات 794ھ) اور الاتقان (السیوطی، وفات 911ھ)
علومِ قرآن کے عظیم انسائیکلوپیڈیاز جن میں ناسخ و منسوخ، احرفِ سبعہ اور تدوین کی مکمل تاریخ مدون ہے
۔
بہنام صادقی اور محسن گودرزی کی سائنسی تحقیقات (2010ء – 2012ء)
صنعاء کے نسخے کا جدید سائنسی، خطاطی اور اسناد و متن کے لحاظ سے علمی تجزیہ
۔
آکسفورڈ یونیورسٹی ریڈیو کاربن لیبارٹری کی رپورٹ (2015ء)
برمنگھم کے نادِر ترین قرآنی اوراق کی سائنسی و لیبارٹری جانچ کی بین الاقوامی رپورٹ
۔