تنش حسیب ځواک با نفر خاص مارشال حسیب و ما تمام پشتون ها را از کشور اخراج میکونیم ❌stf
AFGHAN TALKS
0:00 / 0:00
تنش حسیب ځواک با نفر خاص مارشال حسیب و ما تمام پشتون ها را از کشور اخراج میکونیم ❌stf
923 просмотра · 14 ч назад
AFGHAN TALKS
34,1 тыс. подписчиков
923 просмотра · 14 ч назад
حسیبالله پنجشیری (مشہور بہ حسیب قوای مرکز یا مارشال حسیب)، جو جبهہ مقاومت ملی افغانستان کے ایک اہم عسکری کمانڈر تھے، اگست 2026 میں طالبان کے ایک گھات میں مارے گئے۔ جہاں تک امارت (طالبان) اور جمہوریت (سابقہ حکومت) کے حامیوں یا مخالفین کا تعلق ہے، ان کے بارے میں سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں:
• امارت اسلامی (طالبان): طالبان حکومت حسیب قوای مرکز کو اپنا ایک بڑا عسکری مخالف سمجھتی تھی۔ ان کی ہلاکت کو طالبان کی انٹیلیجنس اور فورسز نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
• جمہوریت کے حامی اور سابقہ عہدیدار: حسیب پنجشیری کا ماضی میں سابقہ جمہوری حکومت کے دور میں سیکیورٹی اداروں (این ڈی ایس) سے تعلق رہا تھا، لیکن بعد میں ان کے حکومت کے بعض عہدیداروں کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ تاہم، ان کی موت پر سابقہ جمہوری حکومت کے متعدد اہم رہنماؤں (جیسے حمد اللہ محب، امراللہ صالح اور مارشال دوستم) نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور انہیں طالبان کے ظلم کے خلاف لڑنے والا قرار دیا۔
• جبهه مقاومت ملی: احمد مسعود کی قیادت میں جبهه مقاومت ملی انہیں اپنا ایک ہیرو اور "مارشال" یا پائیداری کی علامت مانتی ہے۔
مختصراً یہ کہ وہ امارت (طالبان) کے سخت ترین عسکری مخالفین میں سے تھے، جبکہ سابقہ جمہوریت پسندوں کے ساتھ ان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا، لیکن طالبان کے خلاف مشترکہ محاذ کی وجہ سے وہ جمہوریت کے ح