Перейти к содержимому

John Elia Ghazal سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں - Archives of Abdul Hafeez Memon

Khursheed Abdullah

0:00 / 0:00

John Elia Ghazal سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں - Archives of Abdul Hafeez Memon

12 582 просмотра · 6 лет назад
Khursheed Abdullah
71,8 тыс. подписчиков
12 582 просмотра · 6 лет назад
جون ایلیا سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں نیند آنے لگی ہے فرقت میں کراچی کلب عالمی مشاعرہ پچاسواں جشن آزادی ۱۹۹۷ اہتمام : لائبریری و ادبی کمیٹی کراچی کلب بہ شکریہ : عبدالحفیظ میمن سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں نیند آنے لگی ہے فرقت میں ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر سوچتا ہوں تیری حمایت میں روح نے عشق کا فریب دیا جسم کا جسم کی عداوت میں اب فقط عادتوں کی ورزش ہے روح شامل نہیں شکایت میں عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں چیختا ہوں بدن کی عسرت میں یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں وہ جو تعمیر ہونے والی تھی لگا گئی آگ اس عمارت میں اپنے حجرہ کا کیا بیاں کہ یہاں خون تھوکا گیا شرارت میں وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں زندگی کس طرح بسر ہو گی دل نہیں لگ رہا محبت میں جون ایلیا