Перейти к содержимому

Obaidullah Aleem's Ghazal تُو اپنی آواز میں گُم ہے، میں اپنی آواز میں چُپ

Khursheed Abdullah

0:00 / 0:00

Obaidullah Aleem's Ghazal تُو اپنی آواز میں گُم ہے، میں اپنی آواز میں چُپ

1 404 просмотра · 4 месяца назад
Khursheed Abdullah
72,1 тыс. подписчиков
1 404 просмотра · 4 месяца назад
عبیداللہ علیم تُو اپنی آواز میں گُم ہے، میں اپنی آواز میں چُپ دونوں بیچ کھڑی ہے دنیا آئینۂ الفاظ میں چُپ میزبان : کیفی اعظمی مقام : کیفی اعظمی کا گھر تاریخ : 21 مارچ 1984 شرکا : سردار جعفری، مجروح سلطان پوری، عزیز قیسی، راہی معصوم رضا اور عصمت چغتائی شکریہ : راشد ترابی تُو اپنی آواز میں گُم ہے، میں اپنی آواز میں چُپ دونوں بیچ کھڑی ہے دنیا آئینۂ الفاظ میں چُپ اوّل اوّل بول رہے تھے خواب بھری حیرانی میں پھر ہم دونوں چلے گئے پاتال سے گہرے راز میں چُپ خواب سرائے ذات میں زندہ ایک تو صورت ایسی ہے جیسے کوئی دیوی بیٹھی ہو حجرۂ راز و نیاز میں چُپ اب کوئی چُھو کے کیوں نہیں آتا اُدھر سرے کا جیون انگ جانتے ہیں پر کیا بتلائیں، لگ گئی کیوں پرواز میں چُپ پھر یہ کھیل تماشا سارا، کس کے لئے اور کیوں صاحب جب اس کے انجام میں چُپ ہے، جب اس کے آغاز میں چُپ نیند بھری آنکھوں سے چُوما، دیے نے سورج کو اور پھر جیسے شام کو اب نہیں جلنا، کھینچ لی اس انداز میں چُپ غیب سمے کے گیان میں پاگل کتنی تان لگائے گا جتنے سُر ہیں ساز سے باہر، اُس سے زیادہ ساز میں چپ عبیداللہ علیم