سلسلہ: ایوان علم #13/لم: اجتہاد کیا ہے اور بدلتے حالات میں اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
Madrassa. pk
0:00 / 0:00
سلسلہ: ایوان علم #13/لم: اجتہاد کیا ہے اور بدلتے حالات میں اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
128 просмотров · 6 дней назад
Madrassa. pk
52,7 тыс. подписчиков
128 просмотров · 6 дней назад
سلسلہ: ایوان علم #13
سلسلہ ایوانِ علم: اجتہاد کیا ہے اور بدلتے حالات میں اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
عالمِ دین بننے کا سفر صرف کتابیں پڑھنے، نصاب مکمل کرنے یا امتحانات پاس کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا علمی و تربیتی سفر ہے جس میں انسان کو علم کے ساتھ ساتھ فہم، فکر، کردار، تحقیق، علمی دیانت اور عملی زندگی کی تربیت بھی حاصل کرنی ہوتی ہے، اور اس پورے سفر میں استاد کی شخصیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ کتاب ہمیں معلومات دے سکتی ہے، مگر استاد ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ان معلومات کو سمجھنا کیسے ہے، کسی مسئلے کے دلائل کیا ہیں، اس کا پس منظر کیا ہے، مختلف اہلِ علم نے اسے کس زاویے سے دیکھا ہے اور اسے عملی زندگی میں کس طرح برتا جائے۔ اسی لیے اسلامی علمی روایت میں استاد اور شاگرد کا تعلق ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑے محدثین نے اپنے شیوخ سے حدیث سیکھی، فقہاء نے اپنے اساتذہ سے فقہی مسائل سمجھے، مفسرین نے اپنے اساتذہ سے قرآن فہمی کے اصول حاصل کیے اور پھر اسی علمی امانت کو آگے منتقل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایت میں صرف یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ آپ نے کون سی کتاب پڑھی بلکہ یہ بھی پوچھا جاتا تھا کہ آپ نے کس سے پڑھی، کیونکہ علم صرف کتاب کے الفاظ کا نام نہیں بلکہ صحیح فہم، طریقۂ استعمال اور عملی تطبیق کا نام بھی ہے۔ ایک طالب علم جب کسی مشکل کتاب کو پہلی مرتبہ کھولتا ہے تو ممکن ہے بہت سی باتیں اس کی سمجھ میں نہ آئیں، وہ کسی عبارت کا مفہوم غلط لے لے، کسی مسئلے کے دائرۂ کار کو ضرورت سے زیادہ وسیع یا محدود سمجھ لے، یا کسی ایک علمی رائے کو حتمی سمجھ بیٹھے۔ یہاں استاد اس کی رہنمائی کرتا ہے، عبارت کا اصل مفہوم واضح کرتا ہے، مصنف کے مقصد کی طرف متوجہ کرتا ہے اور دوسرے اہلِ علم کے موقف سے آگاہ کرتا ہے۔ استاد کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ وہ طالب علم کو صرف جواب نہیں دیتا بلکہ سوچنے کا صحیح طریقہ سکھاتا ہے، اور یہی چیز ایک عام طالب علم اور ایک سنجیدہ عالم کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔ عالمِ دین بننے کے لیے صرف حافظہ، مطالعہ یا تقریر کی صلاحیت کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ طالب علم دلیل کو سمجھے، اختلاف کے آداب سے واقف ہو، مختلف آراء کا احترام کرے، سوال کرنے کا سلیقہ جانے، اپنی علمی حدود پہچانے اور علمی نظم و ضبط اختیار کرے۔ استاد اسے یہ سکھاتا ہے کہ بنیادی علوم کو مضبوط کیے بغیر مشکل موضوعات کی طرف نہیں جانا چاہیے، ہر کتاب کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے، ہر مسئلے کے لیے مخصوص مصادر ہوتے ہیں اور ہر سوال کا فوری جواب دینا ضروری نہیں بلکہ بعض اوقات تحقیق کے بعد جواب دینا ہی علمی دیانت ہوتی ہے۔ اسی طرح استاد طالب علم کی غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے، اسے ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی سے بچاتا ہے، اختلافی مسائل میں جلد بازی سے روکتا ہے، دوبارہ مطالعے کی طرف متوجہ کرتا ہے اور یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ علم کا سفر مسلسل سیکھنے کا نام ہے۔ ایک اچھا استاد صرف تعریف نہیں کرتا بلکہ ضرورت کے وقت تنقید بھی کرتا ہے، غلطی کی نشاندہی کرتا ہے اور بہتر بننے کا راستہ بھی دکھاتا ہے، اور یہی حقیقی تربیت ہے۔
آج کے دور میں علم اور معلومات کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکے ہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل کتب خانے، آن لائن دروس اور مختلف علمی پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن معلومات کی اس کثرت نے ایک نیا مسئلہ بھی پیدا کیا ہے کہ ہر معلومات علم نہیں، ہر تحریر مستند نہیں، ہر ویڈیو علمی تحقیق کا متبادل نہیں اور ہر مقبول بات درست نہیں ہوتی۔ اس صورت حال میں استاد کی رہنمائی پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ طالب علم کو یہ سکھاتا ہے کہ کون سا ذریعہ معتبر ہے، کس کتاب سے رجوع کرنا چاہیے، حوالہ کیسے تلاش کیا جاتا ہے، مختلف معلومات میں صحیح بات کیسے پہچانی جاتی ہے اور تحقیق کے لیے مناسب منہج کیا ہونا چاہیے۔ اس طرح جدید دور میں استاد کا کردار ختم نہیں ہوا بلکہ مزید اہم ہو گیا ہے۔ اگر طالب علم ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے استاد کی رہنمائی کو بھی ساتھ رکھے تو اس کا علمی سفر زیادہ منظم، محفوظ اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ استاد کی ضرورت صرف کتابی علم تک محدود نہیں، کیونکہ ایک عالمِ دین کو معاشرے میں بھی کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اسے لوگوں سے گفتگو کرنی ہوتی ہے، ان کے مسائل سننے ہوتے ہیں، مختلف طبقات سے رابطہ رکھنا ہوتا ہے، اختلافی صورت حال میں حکمت سے کام لینا ہوتا ہے اور اپنے علم کو مناسب انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ یہ عملی تربیت بھی استاد کی صحبت سے حاصل ہوتی ہے۔ طالب علم اپنے استاد کو دیکھ کر سیکھتا ہے کہ اختلاف کیسے کیا جاتا ہے، سوال کا جواب کس انداز سے دیا جاتا ہے، عام آدمی کے ساتھ گفتگو میں کیا اسلوب اختیار کیا جائے، غلطی ہو جائے تو اسے کیسے تسلیم کیا جائے اور علم کے باوجود عاجزی کس طرح برقرار رکھی جائے۔ یہ چیزیں کتاب کے صفحات سے مکمل طور پر حاصل نہیں ہوتیں بلکہ صحبت اور عملی تربیت سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے ہمارے علمی ورثے میں استاد کی صحبت کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایک استاد صرف معلومات منتقل نہیں کرتا بلکہ ایک علمی مزاج منتقل کرتا ہے، طالب علم کے اندر سوال پیدا کرتا ہے، اسے تحقیق پر آمادہ کرتا ہے، مطالعے کی عادت ڈالتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس کے اندر علم کی طلب کو زندہ رکھتا ہے۔ جس طالب علم کے اندر یہ طلب زندہ ہو وہ روز کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتا ہے، اپنی کمزوری پہچانتا ہے، سوال کرنے سے نہیں گھبراتا، ایک کتاب سے دوسری کتاب تک جاتا ہے، استاد سے رہنمائی لیتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی علمی شخصیت مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ اسی لیے طالب علم کو چاہیے کہ وہ استاد سے صرف سبق نہ لے بلکہ سیکھنے کا طریقہ بھی سیکھے،