سلسلہ: ایوان علم #14/فقہ کے مختلف مذاہب کیسے وجود میں آئے اور ان میں اختلاف کیوں ہے؟
Madrassa. pk
0:00 / 0:00
سلسلہ: ایوان علم #14/فقہ کے مختلف مذاہب کیسے وجود میں آئے اور ان میں اختلاف کیوں ہے؟
167 просмотров · 5 дней назад
Madrassa. pk
52,7 тыс. подписчиков
167 просмотров · 5 дней назад
سلسلہ: ایوان علم #14
فقہ کے مختلف مذاہب کیسے وجود میں آئے اور ان میں اختلاف کیوں ہے؟
اسلامی شریعت کی بنیاد قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ پر ہے، لیکن ان بنیادی مصادر سے نئے پیش آنے والے مسائل کے احکام اخذ کرنے کے لیے گہری علمی بصیرت، زبان و اصول پر مہارت اور اجتہادی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ صحابۂ کرامؓ کے عہد ہی میں مختلف مسائل میں اجتہادی آرا سامنے آتی رہیں، اور بعد کے ادوار میں مختلف علاقوں کے علماء نے اپنے اساتذہ سے حاصل ہونے والی علمی روایت، احادیث و آثار تک رسائی اور اصولِ استنباط کی روشنی میں فقہی مسائل پر منظم انداز میں کام کیا۔ اسی علمی تسلسل سے مختلف فقہی مذاہب وجود میں آئے، جن میں بالخصوص فقہِ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی نے امت میں مستقل علمی مکاتبِ فکر کی صورت اختیار کی۔
فقہی مذاہب کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجہ قرآن و سنت سے دوری نہیں، بلکہ انہی نصوص کو سمجھنے اور ان سے حکم اخذ کرنے کے علمی طریقوں میں فرق ہے۔ بعض اوقات کسی امام تک ایک حدیث پہنچی جبکہ دوسرے تک نہ پہنچ سکی، کبھی ایک ہی روایت کی صحت یا دلالت کے بارے میں مختلف علمی رائے قائم ہوئی، اور کبھی قرآن یا حدیث کے کسی حکم کو عام، خاص، مطلق، مقید یا کسی دوسرے نص کے ساتھ تطبیق دینے میں اجتہادی فرق سامنے آیا۔ اسی طرح عرف، مصالح، قیاس، عملِ صحابہ اور دیگر اصولی مصادر کو استعمال کرنے کے طریقوں میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف پایا گیا۔ اس لیے فقہی اختلاف کو تضاد یا دین میں تقسیم کے بجائے علمی اجتہاد کے ایک فطری نتیجے کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔
فقہی مذاہب کا یہ تنوع اسلامی علمی روایت کی وسعت اور گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ ائمہ فقہ نے ایک دوسرے کو مخالف یا حریف سمجھنے کے بجائے علمی اختلاف کے آداب کو ملحوظ رکھا اور اپنی آرا کو قرآن و سنت کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ فقہی اختلاف کو تعصب اور نزاع کا سبب بنانے کے بجائے علمی وسعت، باہمی احترام اور دینی فہم کے تنوع کے طور پر دیکھا جائے۔ سلسلہ ایوانِ علم کی اس نشست میں ہم جانیں گے کہ فقہی مذاہب کی تشکیل کا تاریخی پس منظر کیا تھا، ائمہ مجتہدین کے اصولِ استنباط میں کیا فرق تھا، اور ایک ہی شرعی مسئلے میں متعدد معتبر آرا کا وجود اسلامی فقہ کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی علمی وسعت کا مظہر کیسے ہے۔