13- Farz Uloom | Hazrat Abu Bakar Siddique | #questions #questionsandanswers حضرت ابو بکر صدیق
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
13- Farz Uloom | Hazrat Abu Bakar Siddique | #questions #questionsandanswers حضرت ابو بکر صدیق
175 просмотров · 3 дн. назад
Allama Mansoor Maturidi
32,9 тыс. подписчиков
175 просмотров · 3 дн. назад
جب مکہ مکرمہ میں کفارِ قریش کی طرف سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں پر ظلم و ستم بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم عطا فرمایا۔
کفارِ قریش نے جب دیکھا کہ مسلمان مدینہ منورہ جا کر ایک مضبوط جماعت بن رہے ہیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کی سازش تیار کی۔ انہوں نے مختلف قبائل کے نوجوانوں کو جمع کیا تاکہ وہ بیک وقت حملہ کرکے آپ ﷺ کو شہید کر دیں۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ان کی سازش سے محفوظ فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سونے کی ہدایت فرمائی تاکہ لوگوں کی امانتیں واپس کرنے کا انتظام ہو سکے، اور خود اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پہلے ہی ہجرت کی تیاری کر رہے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ سفرِ ہجرت پر چلنے کی خوش خبری عطا فرمائی تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ اس مبارک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھی بننے پر نہایت مسرور ہوئے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور انہیں ہجرت کی اجازت کی خبر دی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کیا مجھے بھی آپ کی رفاقت نصیب ہوگی؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خوشی سے رو پڑے۔
غارِ ثور کی طرف روانگی
رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ سے روانگی کے بعد مدینہ منورہ کی جانب جانے والے عام راستے کے بجائے جنوب کی سمت غارِ ثور کا رخ کیا، تاکہ کفارِ قریش کے تعاقب سے بچ سکیں۔
غارِ ثور مکہ مکرمہ کے قریب ایک پہاڑ میں واقع ہے۔ اس کا راستہ دشوار اور چڑھائی مشکل تھی۔ دونوں حضرات وہاں پہنچے اور غار میں قیام فرمایا۔
اس سفر میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت اور احتیاط نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کرنا چاہتے تھے۔ ان کے دل میں یہ فکر تھی کہ کہیں دشمنوں کی طرف سے میرے محبوب آقا ﷺ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
قرآن مجید نے اس مبارک رفاقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ ﷺ کی) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بیشک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا ، اس حال میں کہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جبکہ دونوں (رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے فرما رہے تھے: غمزدہ نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ مدد کی جنہیں تم لوگ نہ دیکھ سکے اور اللہ نے کافروں کی بات کونیچا کر دکھایا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہے ۔(سورۃ التوبہ: 40)
اس آیتِ مبارکہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کا صحابی قرار دیا گیا ہے۔
یہ ان کے لیے بہت بڑا شرف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس رفاقت کا ذکر فرمایا۔
کفارِ مکہ غار کے دہانے تک پہنچ گئے
جب کفارِ قریش کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے تشریف لے جا چکے ہیں تو انہوں نے آپ ﷺ کو تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ تلاش کرنے والے مختلف سمتوں میں پھیل گئے اور آخرکار غارِ ثور کے قریب بھی پہنچ گئے۔
اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فکر ہوئی کہ اگر دشمنوں نے نیچے جھانک کر دیکھ لیا تو انہیں رسول اللہ ﷺ نظر آ سکتے ہیں۔ دشمن بالکل قریب تھے اور صورتِ حال نہایت نازک تھی۔
لیکن رسول اللہ ﷺ کو اپنے رب کی مدد پر کامل بھروسا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے ساتھی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا۔
ترجمہ: غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
یہ الفاظ قیامت تک اہلِ ایمان کو اللہ تعالیٰ پر توکل، یقین اور بھروسا رکھنے کا درس دیتے رہیں گے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم غار ثور میں چھپے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر مشرکین کے کسی آدمی نے اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوبکر! ان دو کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔)صحیح بخاری، 3653 (
اس فرمانِ نبوی ﷺ سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دل کو تسلی ملی۔ انہیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کی حفاظت فرمائے گا۔
غارِ ثور سے مدینہ منورہ تک
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ نے غارِ ثور میں چند راتیں قیام فرمایا۔ اس دوران حضرت عبداللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کی خبریں لے کر آتے اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بکریاں چراتے ہوئے اس علاقے سے گزرتے تاکہ قدموں کے نشانات مٹانے اور دودھ پہنچانے میں مدد ملے۔
جب تلاش کا خطرہ کم ہوا تو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے سفر کو آگے بڑھایا اور بالآخر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اہلِ مدینہ نے رسول اللہ ﷺ کا والہانہ استقبال کیا اور اسلامی معاشرے کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
اس ہجرت کے نتیجے میں مسلمانوں کو ایک ایسا مرکز میسر آیا جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے دین پر عمل کر سکتے تھے اور اسلام کی دعوت کو مزید پھیلا سکتے تھے