Ulma e Shia Part-3
Haqiqi Islam 360
0:00 / 0:00
Ulma e Shia Part-3
187 просмотров · 9 дней назад
Haqiqi Islam 360
298 подписчиков
187 просмотров · 9 дней назад
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
علماء شیعہ
” يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ “ (المجادلہ: 11)
” اللہ ان لوگوں کے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے درجے بلند کرتا ہے “ (المجادلہ: 11)
سلامٌ علیکم! اسلام ہی ایسا دین ہے جو خدا کے نزدیک سچا و خالص اور قابل قبول دین ہے اور علماء کی محفل میں بیٹھنا اور ان کو دیکھنا ( توجہ کرنا) عبادت ہے۔ حدیث میں مروی ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے (اور تمام موجودات) حتی کہ چیونٹیاں اپنےبلوں اور مچھلیاں سمندروں(اور دریاؤں) میں اس شخص پر درود بھیجتی ہیں جو لوگوں کو اُمُور خَیر کی تعلیم دیتا ہے (کنز العمّال:میزان الحکمتہ) یہ علماء ہی کا مقام و مرتبہ ہے کہ ان کے دم سے علم کا وجود ہے اور شریعت اسلامیہ علماء ہی کے سبب ہم تک پہنچی ہے اورعلماء کرام انبیاء عظام کے وارث ہیں یہ مقام اگربلند ہے تو شرائط بھی بڑی کڑی ہیں جیساکہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا کہ جب میری امت میں بدعت ظاہر ہو جائیں تو عالم کا فرض ہے کہ وہ اپنے علم کا اظہار کرے (لوگوں کو اصل حقائق سے آگاہ کرے) اور جو ایسا نہیں کرے گا یعنی عالم خاموش رہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو گی (اصول کافی؛ بِحار الانوار،ج2،ص142؛البقرہ:159)الغرض علماء اور طلباء کے لئے علم کی راہ میں حق اوراخلاص کو ضروری قرار دیاگیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ وہ علم کی راہ میں جو بھی کوشش اور محنت کریں وہ صرف اللہ کی رِضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کریں، حصول علم اور اشاعت علم کا مقصد حصولِ دنیا نہ ہولہذا علماء کے وجود کو باعث خیر و برکت سمجھ کر ان سے حتی المقدور استفادہ کی ہر ایک کوشش کرنی چاہئے اس لیے ضروری ہے کہ چند علماء شیعہ کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا جائے۔اور ہم نے سعی و کوشش کی ہے کہ علماء شیعہ کے علمی و دینی کام کاجامع خلاصہ نِکات کی صورت میں جو ہر عام و خواص کے لیے مفید ہو ، پیش کیا جائے۔
چونکہ میڈیا کی یلغار اور شیطانی چال بہت سخت و پیچیدہ ہیں اور مختلف انواع و اقسام اور مخلوط (مؑعتبر و ضعیف) معلومات کے گرم بازار میں اصل حقائق کا ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اس لیےضرورت اور سخت ضرورت اس امر کی تھی کہ ایک ایسا پلیٹ فارم اورفورم مہیا کیا جائے جہاں علماء شیعہ کی سیرت کا جامع خلاصہ ، وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ، ہر فرد و معاشرہ کی تربیتی و عملی ضرورت کو مد نظر رکھ کر مختصر نکات کی صورت میں پیش کیاجائے جو کہ ایک عام و سادہ مسلمان سے لے کر ایک سکالر و مفتی تک سب کی بنیادی ضرورت پر مشتمل ہو۔ اس لیے اس ضرورت کے تحت کوشش کی جارہی ہے کہ علماء شیعہ کی سیرت و کردارکےعلمی و دینی پہلو کو نکات کی صورت میں مختصر مگر جامع پرزنٹیشن کے طرز اسلوب پر پیش کیا جا ئے۔