Biryani wala ak pakka hafiz sb nikly/😯
The Aijaz 0
0:00 / 0:00
Biryani wala ak pakka hafiz sb nikly/😯
83 просмотра · 22 ч назад
The Aijaz 0
146 подписчиков
83 просмотра · 22 ч назад
سری نگر کے قدیم علاقے نوہٹہ (Nowhatta) میں واقع جامع مسجد وادیِ کشمیر کی سب سے بڑی اور تاریخی اعتبار سے اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔
اس کے اہم تاریخی نقوش درج ذیل ہیں:
تعمیر اور بنیاد: اس مسجد کی تعمیر کا آغاز سلطان سکندر (شاہ میری خاندان) نے 1394ء میں کروایا تھا، اور یہ تقریباً 1402ء میں میر سید علی ہمدانیؒ کے صاحبزادے میر محمد ہمدانیؒ کی سرپرستی اور رہنمائی میں مکمل ہوئی۔ بعد میں سلطان زین العابدین (بڈشاہ) نے اس کی توسیع کی۔
طرزِ تعمیر: یہ مسجد روایتی مغل طرز (گنبد و مینار) کے برعکس روایتی کشمیری-ہند-اسلامی کاٹھ کنباری (لکڑی اور اینٹ) کے طرز پر بنی ہے۔ اس میں ایک وسیع چار باغ والا صحن اور چار بڑے ایوان شامل ہیں۔ مسجد کی چھت دیودار کے 378 دیوقامت، تراشیدہ لکڑی کے ستونوں پر قائم ہے، جن میں سے ہر ایک ستون ایک ہی درخت کے تنے سے تراشا گیا ہے۔
آتشزدگی اور بحالی: لکڑی کی ساخت ہونے کے سبب یہ مسجد تاریخ میں تین بار خوفناک آتشزدگی کا شکار ہوئی:
1479ء: سلطان حسن شاہ کے دور میں آگ لگی، جس کی دوبارہ تعمیر کروائی گئی۔
1620ء: مغل شہنشاہ جہانگیر کے دور میں جلی، جسے جہانگیر کے حکم پر دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
1674ء: مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور میں مسجد کو شدید نقصان پہنچا، اورنگزیب نے اسے نہایت اہتمام کے ساتھ دوبارہ اصل شکل میں تعمیر کروایا، جو موجودہ عمارت کی بنیاد ہے۔
سیاسی اور سماجی مرکزیت: سکھ راج (1819ء سے 1846ء) کے دوران مسجد پر تالے لگا دیے گئے تھے اور 1843ء میں اسے مسلمانوں کے لیے دوبارہ کھولا گیا۔ برطانوی اور ڈوگرا دور سے لے کر آج تک یہ مسجد نہ صرف مذہبی عبادات کا مرکز رہی ہے بلکہ کشمیر کی سیاسی، سماجی اور دینی بیداری کا بھی اہم گہوارہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے تاریخی طور پر میرواعظِ کشمیر کے خطبات جاری ہوتے ہیں۔
مسجد کے اندر ایک وقت میں 30,000 سے زائد نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔
#ramban #kashmir #shortvideo #darululoom #jammuandkashmir #virelvideoshor #vlogger #longvideo