Habib Jalib Azadi evSahafatآزادی صحافت حبیب جالب
Aban Usmani
0:00 / 0:00
Habib Jalib Azadi evSahafatآزادی صحافت حبیب جالب
171 просмотр · 3 недели назад
Aban Usmani
413 подписчиков
171 просмотр · 3 недели назад
آزادی صحافت
حبیب جالب
داستاں غم کی ہم کو ازبر ہے
خوں ہمارا تمہارے ہی سر ہے
پھر سے کہرام آج گھر گھر ہے
پھر وطن کی فضا مکدر ہے
ہر تباہی میں ہے تمہارا ہاتھ
تم نے پیدا کئے ہیں یہ حالات
خوب وعدے نبھائے ہیں تم نے
شہر مقتل بنائے ہیں تم نے
ہم کو یہ دن دکھائے ہیں تم نے
جھونپڑے ہی جلائے ہیں تم نے
کون سا قصر تم نے ڈھایا ہے
ہے کسان ہی کا خوں بہایا ہے
عزت نفس کے ہو تم قاتل
گالیاں دیتے ہو سر محفل
ہے تمہارا مشیر ہر جاہل
تم سے امید خیر لاحاصل
بے ضمیری جسے گوارا ہو
بس وہی ہم سفر تمہارا ہو
ضبط کرتے ہو روز تم اخبار
ہے یہ آزادی لب اظہار
مفلس و اہل دانش و زردار
آج ہیں تم سے سب کے سب بیزار
سچ ہے بولا نہ بول سکتے ہو
جانے کیا کیا جنوں میں بکتے ہو
تالیاں قہقہے کرو تقریر
کوئی کچھ بھی کہے کرو تقریر
ملک کٹتا رہے کرو تقریر
خون بہتا رہے کرو تقریر
سب ہیں خوشحال ہاتھ اٹھواؤ
دل تمہارے ہیں نفرتوں سے بھرے
کون اب اعتبار تم پہ کرے
جو بھی تم سے ملائے ہاتھ ڈرے
مرگئے اچھے لوگ تم نہ مرے
قاتلو اب خدا سے کچھ تو ڈرو
باقی ماندہ وطن پہ رحم کرو
حبیب جالب
مشکل الفاظ
ازبر۔۔۔زبانی یاد ہونا
کہرام۔۔۔شوروہنگامہ /روناپیٹنا
مکدر۔۔۔گندی/ polluted
قصر۔۔۔palace…امیر کا گھر
عزت نفس۔۔۔self respect
مشیر۔۔۔ advisor
زردار۔۔۔پیسہ والاrich