عقیقے كا طریقہ كیا ہے؟ | عقیقہ کا مسنون طریقہ
Tayyib Qasmi Official
0:00 / 0:00
عقیقے كا طریقہ كیا ہے؟ | عقیقہ کا مسنون طریقہ
6 091 просмотр · 2 года назад
Tayyib Qasmi Official
42,2 тыс. подписчиков
6 091 просмотр · 2 года назад
عقیقے كا طریقہ كیا ہے؟ | عقیقہ کا مسنون طریقہ
عقیقہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں روز لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا ذبح کیا جائے اور بچے کے سر کے بال منڈوا کر اس کے وزن کے بقدر چاندی (یا اس کی قیمت ) صدقہ کردی جائے ،اور اسی دن بچے کا کوئی مناسب اسلامی نام رکھ دیا جائے،عقیقہ کے جانور کا گوشت خود بھی کھا سکتے ہیں اور اس سے مہمانوں کی دعوت بھی کرسکتے ہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کی طرح اس کے بھی تین حصے کیے جائیں ،اگر کسی وجہ سے ساتویں روز عقیقہ نہ کرسکے تو پھر چودھویں یا اکیسویں روز عقیقہ کرنا مستحب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ بچہ اپنے عقیقہ کے بدلہ میں مرہون ہوتا ہے، لہذا ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے اور اس کا نام طے کیا جائے ،نیز اس کا سر منڈوایا جائے۔
جواب نمبر: 154555
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1377-1346/sd=1/1439
مفتی بہ قول کے مطابق احناف کے نزدیک عقیقہ مستحب ہے ۔ ( العرف الشذی ، باب ماجاء فی العقیقة، اعلاء السنن: ۱۱۴/۱۷، فتاوی دار العلوم : ۶۰۵/۱۵ ) بہتر یہ ہے کہ عقیقہ ولادت کے ساتویں دن کیا جائے ، اگر کسی وجہ سے ساتویں دن عقیقہ نہیں کیا، تو جب بھی کریں، ساتویں دن کا لحاظ رکھنا بہتر ہے ، مثلا : اگر بچہ جمعہ کو پیدا ہوا ہے ، تو عقیقہ جمعرات میں کریں اور لڑکے کے عقیقے میں مستحب یہ ہے کہ دو بکرے ذبح کیے جائیں اور اگر بڑے جانور میں حصہ لینا ہو، تو بہتر یہ ہے کہ دو حصے لیے جائیں، اگر ایک بکرا ذبح کیا یا بڑے جانور میں ایک حصہ لیا، تب بھی عقیقہ ہوجائے گا ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
#aqiqah #fatwa #darululoomdeoband #tayyibqasmi #muftiabulqasimnomani
Link 🔗 👇👇👇
https://darulifta-deoband.com/home/ur...
https://www.banuri.edu.pk/readquestio...