Toheed-e-Wajoodi vs Toheed-e-Shahoodi Aur Haqeeqat-e-Fana Dars by Sheikh Syed Shabir Ahmed Shah DB
Tareeq-e-Haq
0:00 / 0:00
Toheed-e-Wajoodi vs Toheed-e-Shahoodi Aur Haqeeqat-e-Fana Dars by Sheikh Syed Shabir Ahmed Shah DB
33 просмотра · 1 мес. назад
Tareeq-e-Haq
18 подписчиков
33 просмотра · 1 мес. назад
توحیدِ وجودی بمقابلہ توحیدِ شہودی اور حقیقتِ فنا
دفتر اول، مکتوب: 272، اشاعتِ اول: 14 مارچ، 2018 بمطابق 25 جمادی الثانی 1439 ہجری
درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور
حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
بدھ، 9 ستمبر، 2026 کو 06:00 PM
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
انبیاء کرام علیہم السلام نے توحیدِ وجودی کو پوشیدہ نہیں رکھا بلکہ ان کی دعوت ایک معبودِ حقیقی کی وحدت پر مبنی تھی۔
پیغمبروں پر یہ تہمت لگانا سراسر بے بنیاد ہے کہ انہوں نے حقیقت چھپا کر تقیہ کیا اور کثرت یا غیریت کی تعلیم دی۔
انبیاء کرام نے متشابہات جیسی مشکل باتوں کو بلا جھجک بیان کیا لہٰذا وہ عوام کی کم فہمی کے ڈر سے حقیقت نہیں چھپا سکتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا وجود ہی اصل اور بالذات ہے جبکہ عالم ایک مخلوق ہے جو محض اللہ کے امر سے موجود اور حادث ہے۔
وحدت الوجود دراصل ایک کیفیتی اور استغراقی حالت کا نام ہے اور یہ کوئی علمی حقیقت یا شرعی عقیدہ نہیں ہے۔
سکر اور غلبۂ حال میں انسان شرعاً معذور ہوتا ہے لیکن ہوش کی حالت میں وحدت الوجود کی تقلید کرنا زندیقیت ہے۔
خالق اور مخلوق کو ایک جاننا بداہتِ عقل و شریعت کے خلاف ہے کیونکہ حادث چیز کبھی قدیم کی عین نہیں ہو سکتی۔
توحیدِ شہودی میں سالک کا تعلقِ بندگی اتنا کامل ہو جاتا ہے کہ اشیاء کی موجودگی کے باوجود ماسوی اللہ سے کوئی التفات نہیں رہتا۔
کمالِ فنا اس میں ہے کہ انسان سکر کے بجائے صحو اور ہوش کی حالت میں رہتے ہوئے اعمال کرے۔
متقدمین صوفیاء کی توحید و اتحاد پر مبنی عبارتیں غلبۂ حال کا نتیجہ تھیں جنہیں بعد میں وحدت الوجود کے نظریے کے طور پر مدون کیا گیا۔
معرفت کے باب میں اکابرین کی اجتہادی غلطیوں پر حسنِ ظن رکھنا چاہیے لیکن ان کی پیروی کر کے اپنے لیے کوئی راستہ نکالنا درست نہیں۔
روحانی کمالات اور ولایت کے حصول کے لیے توحیدِ شہودی کا راستہ توحیدِ وجودی کی نسبت زیادہ محفوظ، آسان اور منزل سے قریب تر ہے۔