35- دروس البلاغہ | حروفِ استفھام کے مختلف استعمالات
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
35- دروس البلاغہ | حروفِ استفھام کے مختلف استعمالات
267 просмотров · 5 дн. назад
Allama Mansoor Maturidi
32,9 тыс. подписчиков
267 просмотров · 5 дн. назад
وَقَدْ تَخْرُجُ أَلْفَاظُ الْاِسْتِفْهَامِ -عَنْ مَعْنَاهَا الْأَصْلِيِّ - لِمَعَانٍ أُخَرَ -تُفْهَمُ مِنْ سِيَاقِ الْكَلَامِ:
اور کبھی استفہام کے الفاظ اپنے اصلی معنی سے نکل کر دوسرے معانی میں بھی استعمال ہوتے ہیں، جنہیں کلام کے سیاق سے سمجھا جاتا ہے:
1 ـ كَالتَّسْوِيَةِ، نَحْوُ: [ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ] [الْبَقَرَةِ: ٦].
جیسے برابری کے معنی میں، مثلاً: ’’ان کے لیے برابر ہے، خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا انہیں نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
2 ـ وَالنَّفْيِ، نَحْوُ: [ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ] [الرَّحْمَنِ: ٦٠].
اور نفی کے معنی میں، جیسے: ’’احسان کا بدلہ احسان کے سوا اور کیا ہے؟‘‘
(یہاں «هَلْ» ظاہری طور پر سوال کے لیے ہے، لیکن حقیقت میں نفی کے معنی دے رہا ہے، یعنی: ’’احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ نہیں۔‘‘)
3 ـ وَالْإِنْكَارِ، نَحْوُ: [ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ ] [الْأَنْعَامِ: ٤٠]، [ أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ] [الزُّمَرِ: ٣٦].
انکار کے معنی میں، جیسے: ’’کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو؟‘‘ اور: ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟‘‘
(انکار کا مطلب ہے تردید کرنا اور غلطی ثابت کرنا- پہلی آیت میں بتوں کو پکارنے کی سخت تردید کی گئی ہے، اور دوسری میں اللہ کے کافی نہ ہونے کی تردید کی گئی ہے کہ یقیناً اللہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے)
4 ـ وَالْأَمْرِ، نَحْوُ: [ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ ] بِمَعْنَى «انْتَهُوا»، وَنَحْوُ: [ أَ أَسْلَمْتُمْ ] بِمَعْنَى «أَسْلِمُوا».
امر کے معنی میں، جیسے: تو کیا تم باز آتے ہو؟ یعنی باز آ جاؤ، اور جیسے: کیا تم اسلام لائے؟ یعنی اسلام لے آؤ۔
5 ـ وَالنَّهْيِ، نَحْوُ: [ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ ] [التَّوْبَةِ: ١٣].
نہی کے معنی میں، جیسے: ’’کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ حالانکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔‘‘
6 ـ وَالتَّشْوِيقِ، نَحْوُ: [ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ] [الصَّفِّ: ١٠].
اور شوق و رغبت پیدا کرنے کے معنی میں، جیسے: ’’کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے؟‘‘
7 ـ وَالتَّعْظِيمِ، نَحْوُ: [ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ] [الْبَقَرَةِ: ٢٥٥].
عظمت بیان کرنے کے معنی میں، جیسے: ’’کون ہے وہ جو اللہ کی بارگاہ میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے؟‘‘
8 ـ وَالتَّحْقِيرِ، نَحْوُ: «أَهٰذَا الَّذِي مَدَحْتَهُ كَثِيرًا؟».
تحقیر کے معنی میں، جیسے: ’’کیا یہی وہ شخص ہے جس کی تم نے اتنی زیادہ تعریف کر رہے تھے؟‘‘
9 ـ وَالتَّهَكُّمِ، نَحْوُ: «أَعَقْلُكَ يُسَوِّغُ لَكَ أَنْ تَفْعَلَ كَذَا؟».
تمسخر اور طنز کے معنی میں، جیسے: کیا تیری عقل تجھے اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ تو ایسا کام کرے؟ ‘‘
10 ـ وَالتَّعَجُّبِ، نَحْوُ: [ وَقَالُوا مَالِ هٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ] [الْفُرْقَانِ: ٧].
تعجب کے معنی میں، جیسے: ’’اور انہوں نے کہا: اس رسول کو کیا ہوا کہ یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟‘‘ (یعنی یہ انسان کیوں ہے، فرشتہ کیوں نہیں۔)
11 ـ وَالتَّنْبِيهِ عَلَى الضَّلَالِ، نَحْوُ: [ فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ ] [التَّكْوِيرِ: ٢٦].
گمراہی پر تنبیہ کرنے کے معنی میں، جیسے: ’’پس تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘
(یعنی جب نبی ﷺ کی شان جان چکے تو اے بدبختو! تم اتنے بڑے خزانے کو چھوڑ کر کدھر چلے جا رہے ہو)
12 ـ وَالْوَعِيدِ، نَحْوُ: «أَتَفْعَلُ كَذَا وَقَدْ أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ؟».
وعید اور سزا کے معنی میں، جیسے: ’’کیا تم ایسا کرو گے، حالانکہ میں نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے؟‘‘
(یہاں ھمزہ استفھام دراصل مخاطَب کو اس کی احسان فراموشی سزا سے ڈرانے کے لیے آیا ہے کہ میرے احسانات کے باوجود تیری اس حرکت پر تجھے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا)