Seerat e Mudeeriati | 12 August 2026 | Syed Jawad Naqvi
Life Programming
0:00 / 0:00
Seerat e Mudeeriati | 12 August 2026 | Syed Jawad Naqvi
1 463 просмотра · 4 недели назад
Life Programming
2,34 тыс. подписчиков
1 463 просмотра · 4 недели назад
بمناسبتِ رحلتِ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور شہادتِ سبطِ رسول حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام مجلسِ عزا اس وقت جامعہ عروۃ الوثقیٰ، لاہور
اس خطاب کا مرکزی موضوع سیرتِ رسول اللہ ﷺ اور مدیریت ہے۔ قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کو اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے، لیکن اسوۂ حسنہ کا مفہوم صرف رسول اللہ ﷺ کی تاریخِ زندگی، فضائل، اقوال یا تاریخی واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ آپ ﷺ کے طرزِ زندگی اور عملی طریقۂ کار کو اپنی زندگی میں منتقل کرنا ہے۔ مجلس میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ سیرت کی حقیقی جگہ کتابوں، تقریروں یا محض تذکروں میں نہیں بلکہ انسان کی عملی زندگی میں ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ کے طرزِ زندگی کو اختیار کیا جائے۔
سید جواد نقوی نے مدیریتِ نبوی کو رسالت، ہدایت، تبلیغ، امامت اور معاشرتی نظام کی تشکیل کا ایک بنیادی شعبہ قرار دیتے ہوئے مدیریت کے مفہوم پر بھی گفتگو کی۔ خطاب میں بتایا گیا کہ مدیریت کا تعلق ہدف، انسانی وسائل، مادی و دیگر وسائل اور وقت کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنے سے ہے، تاکہ مقررہ وسائل اور مدت کے اندر مطلوبہ ہدف حاصل کیا جا سکے۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ محدود وسائل، مشکلات اور مخالفت کے باوجود انسان اپنی ذمہ داری، منصوبہ بندی، استقامت اور صحیح انسانی وسائل کی تیاری کے ذریعے بڑے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔
مجلس میں مساجد، امام بارگاہوں، حسینیوں، مدارس، عزاداری، مذہبی مراکز، گھریلو زندگی اور مختلف دینی اداروں کی مدیریت کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس حوالے سے زور دیا گیا کہ صرف محبت، عقیدت، غم اور مذہبی وابستگی کافی نہیں، بلکہ قرآن، رسول اللہ ﷺ اور اہلِ بیتؑ کی سیرت سے عملی اصول اخذ کرکے انہیں اداروں، مراکز، خاندان اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا بھی ضروری ہے۔ مختلف مذہبی و فکری حلقوں کا جائزہ بھی فرقہ وارانہ بحث کے بجائے علمی، تحقیقی اور عملی نتائج کی بنیاد پر لینے کی بات کی گئی۔
حضرت امام علی علیہ السلام کی مدیریت، نہج البلاغہ کے مدیریتی اصول، حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے دور کے حالات اور کوفہ کے اجتماعی رویوں کو بھی اسی تناظر میں موضوعِ بحث بنایا گیا۔ خطاب میں اس پہلو پر روشنی ڈالی گئی کہ ایک بہترین قائد اور مدیر کی تدابیر بھی اس وقت متاثر ہو سکتی ہیں جب ساتھ دینے والے افراد ذمہ داری، نظم، اطاعت اور عملی تعاون کا مظاہرہ نہ کریں۔ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت اور آپؑ کے دور کے واقعات سے اجتماعی ذمہ داری، قیادت کے ساتھ تعاون اور امانتِ الٰہی کی حفاظت کے اہم اسباق اخذ کرنے کی دعوت دی گئی۔
خطاب میں بعثت، احساسِ ذمہ داری، خود اعتمادی، استقامت، انسانی وسائل کی تیاری، وسائل کے حصول، وقت کی قدر اور فرصت شناسی کو ایک کامیاب مدیر کی بنیادی خصوصیات کے طور پر بیان کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے سخت حالات میں ایک تیار شدہ نظام یا بڑی جماعت سے کام شروع نہیں کیا بلکہ انسان تیار کیے، ٹیم تشکیل دی، وسائل پیدا کیے اور بتدریج ایک عظیم معاشرتی و دینی نظام قائم کیا۔ اسی اصول کی روشنی میں معلمین، مدیران، دینی کارکنان اور اداروں سے وابستہ افراد کو اپنے محدود میدان کو غنیمت سمجھنے، اسے وسعت دینے اور دستیاب امکانات کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی تلقین کی گئی۔
مجلس میں امام خمینیؒ اور رہبرِ شہید کی مدیریتی مثالوں کا بھی ذکر کیا گیا اور یہ نکتہ بیان کیا گیا کہ ایک کامیاب مدیر اپنے لیے مؤثر اور واضح ماڈل منتخب کرتا ہے۔ خطاب میں قرآن کریم، رسول اللہ ﷺ، حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام، ائمۂ اہلِ بیتؑ اور امام خمینیؒ کی سیرت سے عملی رہنمائی لینے کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ دینی و اجتماعی ذمہ داریاں محض نظری گفتگو کے بجائے عملی نظم، منصوبہ بندی، تربیت اور مؤثر کارکردگی کے ساتھ انجام دی جا سکیں۔
اس مجلس کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ سیرتِ رسول اللہ ﷺ کو صرف پڑھنا، بیان کرنا یا سننا کافی نہیں؛ سیرت کو اپنی شخصیت اور عملی زندگی میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح اہلِ بیتؑ سے محبت اور ان کے فضائل و مصائب کا تذکرہ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ان کی سیرت، اصولِ زندگی، ذمہ داری، استقامت، مدیریت اور اجتماعی کردار کو اپنانا بھی اس محبت کا عملی تقاضا ہے۔ معلم ہو یا مدیر، دینی کارکن ہو یا کسی ادارے سے وابستہ فرد، ہر شخص کو اپنے میدان میں امانت، ذمہ داری، جدوجہد اور مؤثر مدیریت کے اصول اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔