Перейти к содержимому

مجازِ مُرسل حصّہ نمبر7:مجازِ مُرسل، ماضی(گزرا ہوا زمانہ) بول حال(موجودہ زمانہ) مُراد لینا ہے، تعریف

Abdul Haq Academy

0:00 / 0:00

مجازِ مُرسل حصّہ نمبر7:مجازِ مُرسل، ماضی(گزرا ہوا زمانہ) بول حال(موجودہ زمانہ) مُراد لینا ہے، تعریف

154 просмотра · 5 мес. назад
Abdul Haq Academy
2,17 тыс. подписчиков
154 просмотра · 5 мес. назад
مجازِ مُرسل حصّہ نمبر7:مجازِ مُرسل، ماضی (گزرا ہوا زمانہ) بول حال (موجودہ زمانہ) مُراد لینا ہے۔ مجازِ مُرسل ایک صورت ماضی بول کر حال مُراد لینے کی تعریف مع مثالیں ملاحظہ فرمائیں! ماضی بول کر حال مُراد لینا ، کی تعریف: ماضی کی حالت سے حال کی حالت مُراد لینا ہے ۔ مثلاً بوڑھے کو بچّہ کہنا ، ماضی یعنی گزرے ہوئے زمانے کی حالت (بچّہ) کہہ کر حال یعنی موجودہ حالت(بوڑھا) مُراد لینا ہے ۔ ماضی بول کر حال مُراد لینے کی مثالیں: مثال نمبر 1: ریٹائرڈ میجر کو میجر صاحب کہنا، اِس مثال میں ماضی کے میجر صاحب جس اُن کے پاس ماضی میں اختیارات تھے اب حال میں میجر صاحب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اب موجودہ زمانے کے ریٹائرڈ میجر کے اختیارات ختم ہوچکے ہیں لیکن ماضی کی نسبت سے حال یعنی موجودہ زمانے میں میجر صاحب کہنا ، مجازِ مُرسل کی ایک صورت ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثال نمبر 2: شعری مثال: عطا کی وہ مِٹّی کو عقل و تمیز ہوئی شکل یوسف جو ہر دِل عزیز اِس مثال کے اندر ماضی میں انسان کی ابتدائی حالت " مِٹّی " بول کر حال کی حالت " انسان" ہے ۔ آدم علیہ السلام کی تخلیق مٹی سے ہوئی لہذا انسان کو اُس ماضی کی نسبت سے مِٹّی کہنا ، مجازِ مُرسل کی ایک صورت ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعری مثال نمبر 3 : الٰہی ! کیا ، کیا تُو نے کہ عالَم میں طَلَاطُم ہے غضب کی ایک مشتِ زیرِ آسماں رکھ دی آدم علیہ السلام کی پیدائش مِٹّی سے ہوئی لہذا حال میں انسان کو اُس ماضی کی نسبت سے مٹی کہنا ، مجازِ مُرسل کی ایک صورت ہے ۔ بہترین اُردو سیکھنے کےلیے یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں ۔ شکریہ    / @abdulhaqacademy