Перейти к содержимому

مین شاہراہیں بند، عوام خوفزدہ — ریاست آخر چاہتی کیا ہے؟ | Asghar Khan Achakzai

Asghar Khan Achakzai

0:00 / 0:00

مین شاہراہیں بند، عوام خوفزدہ — ریاست آخر چاہتی کیا ہے؟ | Asghar Khan Achakzai

113 просмотров · 8 мес. назад
Asghar Khan Achakzai
1,07 тыс. подписчиков
113 просмотров · 8 мес. назад
🔹یہ ریاست قوموں اور شخصیات کو ایسے ناقابلِ بیان زخم دیتی آئی ہے جو کبھی مندمل نہیں ہوتے، مگر تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ ہم نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے، اس پر ہر قسم کے جبر، تشدد اور سیاسی کارکنوں کو دی جانے والی تکلیفوں کے باوجود ہم اپنے نظریے اور سیاست سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اصغر خان اچکزئی، 🔹 چھ فروری وہ سیاہ دن ہے جب سردار عطا اللہ خان مینگل کے بیٹے اسد اللہ مینگل کو جبراً اٹھایا گیا، اور آج تک ان کے والد نے ان کی فاتحہ بھی نہیں لی، تاریخ اور کتابوں میں کبھی لکھا جاتا ہے کہ وہ شہداد کوٹ میں دفن ہیں اور کبھی کسی اور جگہ، مگر سردار عطا اللہ خان نے آج تک اس بیٹے کی فاتحہ نہیں لی، اصغر خان اچکزئی، 🔹 نواب نوروز خان کے ساتھ قرآن پر یہ وعدہ کیا گیا کہ وہ پہاڑوں سے نیچے اتریں، لیکن جب وہ نیچے آئے تو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا، اس کے باوجود بلوچ قوم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹی بلکہ اس ظلم نے جدوجہد کو مزید طاقت دی، حتیٰ کہ اکتیس تاریخ کو کینٹ کے گیٹ پر دستک دی گئی، اصغر خان اچکزئی، 🔹 میں نے اپنی پارٹی کے ہزاروں شہداء کے ساتھ ساتھ اپنے والد، اپنے بھائی اور اپنے ایک کزن کو کھویا، اس ریاست کی وجہ سے ہم نے ناقابلِ برداشت قربانیاں اُٹھائی ہے، یہ پورا وطن اور پورا علاقہ جانتا ہے کہ چمن کا الیکشن عوامی نیشنل پارٹی واضح اکثریت سے جیت چکی ہے، اور دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ مقابلہ کن کے درمیان تھا، اصغر خان اچکزئی، 🔹 آج ریاست اپنی طاقت کے زور پر یہ کہہ رہی ہے کہ چاہے تم مانو یا نہ مانو، ہم اپنا مسلط کردہ نمائندہ لائیں گے، اب میں سوال کرتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ ہم بھی وہی راستہ اختیار کریں جو بلوچ مزاحمت کاروں نے اپنایا، تو کیا تب بھی ہمیں دہشت گرد اور انتہاپسند نہیں کہا جائے گا؟ آج جب ہم آئینی، جمہوری جدوجہد کرتے ہیں تب بھی ہمارا راستہ روکا جارہا جاتا، تو پھر لوگ آخر کس طرف جائیں؟ اصغر خان اچکزئی، 🔹 ہم عوام کو نقصان نہیں پہنچا رہے، بلکہ عوام کے دلوں میں جمع غصے اور کرب کو پُرامن احتجاج کے ذریعے دنیا کے سامنے لا رہے ہیں، اور اس کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں چھوڑا جا رہا، اصغر خان اچکزئی، 🔹 فلسطین میں یاسر عرفات نے مسلح جدوجہد چھوڑ کر سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں بہت سے لوگوں نے مسلح جدوجہد کی بات کی، مگر باچا خان اور ان کے ساتھیوں نے جمہوری، آئینی اور عوامی سیاست کا راستہ اپنایا، نیلسن منڈیلا کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جنہوں نے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے تاریخ بدلی، اصغر خان اچکزئی، 🔹 اب سوال یہ ہے کہ ریاست آخر چاہتی کیا ہے؟ کیا وہ سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد کرنے والوں کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے؟ کیا پیکا ایکٹ کے ذریعے صحافیوں کو اس بات پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ کیمرہ اور قلم چھوڑ کر اسلحہ اٹھائیں؟ اصغر خان اچکزئی، 🔹 ڈی آر اے کے واضح اور جائز مطالبات نہ ماننے کی وجہ سے ملازمین کو مارا پیٹا جا رہا ہے، کیا گریڈ بائیس سے لے کر گریڈ پانچ تک کے ملازمین کو زبردستی نوکریاں چھوڑنے اور اسلحہ اٹھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے؟ اصغر خان اچکزئی، 🔹 آج عوام نے واضح فیصلہ دیا ہے کہ ان کا نمائندہ کون ہے، لیکن ریاست طاقت کے زور پر یہ کہہ رہی ہے کہ نہیں، نمائندہ وہ ہوگا جو ہم بتائیں گے، چاہے عوام مانیں یا نہ مانیں، تو پھر سوال یہ ہے کہ جو جیتا ہے وہ کیا کرے اور قوم کس راستے پر جائے؟ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ آپ عوام کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں؟ اصغر خان اچکز 🔹 آج شہر کے ہر گلی کوچے میں ڈاکو، چور اور قاتل کھلے عام موجود ہیں، مسلح گروہ لشکروں کی صورت میں گھروں پر چڑھ کر منظم انداز میں ڈکیتیاں کر رہے ہیں۔ اصغر خان اچکزئی 🔹 جب ریاست شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو جائے تو عوام مجبوراً خود مسلح ہو کر اپنی حفاظت پر کھڑے ہو جاتے ہیں، اور ہر شخص دوسرے کو خبردار کرتا ہے کہ میرے راستے پر نہ آنا۔ اصغر خان اچکزئی 🔹 یہ صورتحال کسی غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ دانستہ پالیسی معلوم ہوتی ہے، مگر ہمیں آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکا کہ ریاست آخر چاہتی کیا ہے اور اس کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ اصغر خان اچکزئی 🔹 جن زمینوں پر کبھی زراعت اور روزگار تھا، آج وہ افیون کی کاشت کے حوالے کر دی گئی ہیں، جو کام کبھی ہیلمند (افغانستان) سے منسوب تھا، آج اسی حوالے سے بلوچستان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ اصغر خان اچکزئی 🔹 مین شاہراہیں مسلح گروہوں کے قبضے میں ہیں، ٹرانسپورٹ رینگ رہی ہے، مسافر تنگ اور خوفزدہ ہیں، مال غیر محفوظ ہے اور سفر ایک خطرہ بن چکا ہے۔ اصغر خان اچکزئی 🔹 صحافیوں کے سروں پر پیکا ایکٹ اس طرح مسلط کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ایک پوسٹ بھی شیئر کرے تو اس پر پاکستان توڑنے کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ اصغر خان اچکزئی 🔹 یہ کیسا ملک ہے جو ایک صحافی کی پوسٹ، ایک سیاسی کارکن کی تقریر یا ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے سے ٹوٹ جاتا ہے؟ اصغر خان اچکزئی 🔹 آپ نے اس خطے کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا ہے، کبھی ایک تجربہ اور کبھی دوسرا، اب وقت آ گیا ہے کہ ان تجربات کو ترک کر کے عوامی رائے کو ترجیح دی جائے۔ اصغر خان اچکزئی 🔹 آپ نے اپنی مرضی سے حکومتیں تو بنا لیں، مگر آج عوام کی نظر میں ان حکومتوں کی کوئی عزت اور کوئی وقار باقی نہیں رہا۔ اصغر خان اچکزئی 🔹 ہم نے تاریخ میں پہلی بار دیکھا کہ ایک ریاست عوامی رائے کو پیسے کے بل بوتے پر نیلام کر رہی ہے۔ اصغر خان اچکزئی 🔹 پشین، چمن، کوئٹہ، خضدار، لاہور، پشاور اور کراچی تک زور زبردستی صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ مخصوص افراد کو اقتدار میں لایا جا سکے۔ اصغر خان اچکزئی 🔹 آج سیاست ووٹ سے نہیں بلکہ بولی سے جیتی جا رہی ہے، جس کے پاس زیادہ پیسہ ہو وہی کامیاب قرار پاتا ہے، یہ جمہوریت نہیں بلکہ کھلی نیلامی ہے۔ اصغر خان اچکزئی #AsgharKhanAchakzai | #AwamiNationalParty | #ANPChaman