🔥Will PPP Be Broken Like MQM? Zardari’s Sudden Return & The Secret Sindh Power Game
Anis Mansoori
0:00 / 0:00
🔥Will PPP Be Broken Like MQM? Zardari’s Sudden Return & The Secret Sindh Power Game
31 484 просмотра · 18 часов назад
Anis Mansoori
96,6 тыс. подписчиков
31 484 просмотра · 18 часов назад
کیا Pakistan Peoples Party اور طاقتور ریاستی حلقوں کے درمیان نئے صوبوں اور Administrative Units کا اختلاف اب ایک بڑے سیاسی تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے؟
اور سب سے بڑا سوال:
کیا PPP کے خلاف بھی کبھی وہی سیاسی formula استعمال ہو سکتا ہے جو ماضی میں MQM کے خلاف استعمال ہونے کے الزامات لگتے رہے؟
فی الحال PPP کے خلاف کسی باقاعدہ “operation” یا پارٹی توڑنے کے منصوبے کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ لیکن گزشتہ چند دنوں کے واقعات نے یہ سوال ضرور پیدا کردیا ہے کہ PPP اور وفاقی سطح پر Administrative Restructuring کی حمایت کرنے والی قوتوں کے درمیان فاصلے کتنے بڑھ چکے ہیں؟
PPP نے سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور کرا کے واضح کردیا ہے کہ وہ Sindh کی تقسیم، نئی صوبائی حدود یا سندھ کے اندر نئے Administrative Units قبول نہیں کرے گی۔
اس کے بعد PPP Sindh نے وفاقی وزرا کے بیانات پر سخت ردعمل دیا اور وزیراعظم Shehbaz Sharif سے مطالبہ کیا کہ اپنے وزرا کو ایسے بیانات سے روکیں۔ پارٹی نے 12 September کو “Sindh Unity” کے عنوان سے rallies اور political mobilisation کا پروگرام بھی بنایا۔
دوسری طرف Mohsin Naqvi نئے Administrative Units کے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے، جبکہ Khawaja Asif بھی Devolution of Power کو ناگزیر قرار دے چکے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر PPP راستے میں کھڑی رہی تو کیا اس پر سیاسی دباؤ بڑھایا جائے گا؟
کیا پارٹی کے اندر سے کوئی نیا گروپ نکل سکتا ہے؟
کیا سندھ میں PPP کے روایتی اتحادی اور ووٹ بینک تبدیل کرنے کی کوشش ہوگی؟
یا PPP اور وفاق بالآخر کسی compromise پر پہنچ جائیں گے؟
صدر Asif Ali Zardari کا London visit بھی اسی سیاسی ماحول میں موضوعِ بحث بنا۔ معتبر رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنا دورہ مختصر کرکے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا، جبکہ ان کے لندن قیام کے دوران نئے صوبوں کی بحث اور Mohsin Naqvi سے ملاقات نے کئی سیاسی قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔
London میں Bilawal Bhutto Zardari اور Asif Ali Zardari کی تقریباً پانچ گھنٹے طویل ملاقات کے بعد پارٹی ذرائع نے بتایا کہ دونوں سندھ کی تقسیم کی مخالفت برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔
لیکن سیاسی حلقوں میں ایک دوسرا سوال بھی گردش کر رہا ہے:
کیا باپ اور بیٹے کی strategy واقعی ایک ہے؟
اور اگر Maulana Fazlur Rehman سمیت سیاسی شخصیات کے حوالے سے اختلافات کے دعوے سامنے آ رہے ہیں تو ان دعوؤں میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا political signalling؟
اسی دوران PPP اپنے تاریخی مزاحمتی بیانیے کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔ سندھ کے اتحاد، Bhutto legacy، آمریت کے خلاف قربانیوں اور پارٹی کے شہدا کا ذکر ایسے وقت میں سیاسی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب PPP خود کو سندھ کے دفاع کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔
کیا ضیا دور کے شہدا کو دوبارہ نمایاں کرنا صرف ایک یادگاری سرگرمی ہے، یا موجودہ طاقت کے مراکز کے لیے symbolic political message بھی ہے؟
یہ interpretation ہے، اس کا کوئی ثابت شدہ ثبوت موجود نہیں۔
ایک اور دلچسپ سوال Karachi کے Pashtun vote کا ہے۔
اگر PPP اپنی Pashtun leadership، Karachi Mayor اور مختلف ethnic communities کے سیاسی نمائندوں کو متحرک کرتی ہے تو کیا اس کا مقصد نئے صوبے کے معاملے پر صرف Sindhi nationalist vote نہیں بلکہ Karachi کے اندر ایک broader anti-division coalition بنانا ہے؟
اگر ایسا ہے تو یہ MQM-P کے لیے زیادہ اہم challenge ہوگا۔
کیونکہ پھر مقابلہ صرف:
Sindhi vs Muhajir
نہیں رہے گا۔
بلکہ اصل مقابلہ بن سکتا ہے:
MQM-P کا Administrative Units model بمقابلہ PPP کا Multi-Ethnic Karachi + United Sindh model۔
اور پھر سب سے بڑا سوال:
کیا Establishment واقعی PPP سے ٹکراؤ چاہتی ہے، یا یہ سارا pressure بالآخر PPP کو کسی نئے Devolution Formula پر مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے ہے؟
اس ویڈیو میں ہم Zardari، Bilawal، Faryal Talpur، Mohsin Naqvi، MQM-P، PML-N، PTI، Pashtun politics اور Establishment کے تمام cards کو جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
کیا PPP کے خلاف Operation آنے والا ہے — یا Zardari ایک بار پھر آخری لمحے میں Deal نکال لیں گے؟
#PPP #AsifZardari #BilawalBhutto #FaryalTalpur #MohsinNaqvi #MQMP #NewProvinces #AdministrativeUnits #Sindh #Karachi #SindhPolitics #KarachiPolitics #Establishment #PakistanPolitics #Zardari #PTI #MurtazaWahab #Pashtun #PoliticalCrisis #PakistanNews