Перейти к содержимому

پودوں کی جنت،،، کیا یہ سب پاکستان میں ہے۔۔۔؟سیب کے برابر ۔۔بیر۔۔۔؟ IS THIS REALLY PAKISTAN

Culture Tv Asj

0:00 / 0:00

پودوں کی جنت،،، کیا یہ سب پاکستان میں ہے۔۔۔؟سیب کے برابر ۔۔بیر۔۔۔؟ IS THIS REALLY PAKISTAN

6 856 просмотров · 8 дн. назад
Culture Tv Asj
1,05 тыс. подписчиков
6 856 просмотров · 8 дн. назад
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا شہر بھی موجود ہے جہاں جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی نرسری میں نہیں، بلکہ قدرت کی ایک ایسی وسیع و عریض کتاب میں داخل ہوگئے ہوں، جس کا ہر صفحہ ایک نئے رنگ، ایک نئی خوشبو اور ایک نئی کہانی سے بھرا ہوا ہے؟ جہاں دنیا بھر کے نایاب پھلوں اور پھولوں کی اقسام موجود ہوں، جہاں ایک ہی پھل کی درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں شکلیں اور ذائقے آپ کو حیران کردیں، جہاں ایک بیر اتنا بڑا ہو کہ ایک کلو میں صرف چار بیر آئیں، اور جہاں لیموں اور سٹرَس ایسڈ کی چالیس سے زائد اقسام ایک ہی جگہ پر موجود ہوں! جی ہاں… ہم بات کر رہے ہیں پتوکی کی، جسے پاکستان میں پودوں، پھولوں اور پھل دار درختوں کا ایک بڑا مرکز کہا جاسکتا ہے۔ اور آج کا یہ سفر صرف ایک نرسری کا وزٹ نہیں، بلکہ یہ سفر ہے قدرت کے رنگوں، باغبانی کے شوق، محنت، مشکلات اور پاکستان کے زرعی مستقبل کو قریب سے دیکھنے کا۔ تو اگر آپ نے کبھی پودوں سے محبت کی ہے، اگر آپ باغبانی کا شوق رکھتے ہیں، اگر آپ نایاب پھلوں اور پودوں کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں، یا صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پتوکی کی نرسریوں میں آخر ایسا کیا ہے جو لوگوں کو دور دور سے یہاں کھینچ لاتا ہے… تو ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھیے گا، کیونکہ آج کی یہ کہانی ابھی شروع ہوئی ہے۔ اتوار کا دن تھا۔ دوپہر کے وقت ہم لاہور سے پتوکی کی طرف روانہ ہوئے۔ میرے ساتھ تھے چھوٹے بھائی اور نہایت ہی مخلص دوست نعیم بابر چودھری صاحب۔ گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی، راستہ آگے بڑھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ گفتگو بھی جاری تھی۔ کبھی ہنسی مذاق، کبھی سفر کی باتیں اور کبھی ملکی حالات پر سنجیدہ تبادلۂ خیال۔ لیکن پھر لاہور پیچھے رہ گیا اور پتوکی قریب آتا گیا۔ پتوکی صرف نقشے پر موجود ایک شہر نہیں۔ یہاں نرسریوں کی دنیا اتنی وسیع ہے کہ اگر آپ تمام نرسریاں تفصیل سے دیکھنا شروع کریں تو شاید ایک دن، دو دن نہیں… پورا ہفتہ بھی کم پڑ جائے۔ یہاں موجود پودوں، پھل دار درختوں، پھولوں اور نایاب ورائٹیز پر کئی گھنٹوں کی ایک مکمل ڈاکومنٹری بن سکتی ہے۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ آج ہمارا سفر بھی محض ایک وزٹ نہیں تھا… تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم پتوکی میں اپنے میزبان، شاہد صاحب کی باغباں نرسری پہنچے۔ نرسری میں داخل ہوتے ہی جو منظر سامنے آیا، وہ واقعی دل کو چھو لینے والا تھا۔ قدرت کے بے شمار رنگ، چاروں طرف گھنے درخت، ہوا میں مٹی اور پودوں کی خوشبو، پرندوں کی چہچہاہٹ اور درختوں کے سائے میں ایک خوبصورت سا سٹنگ ایریا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے شہر کے شور سے نکل کر ہم اچانک کسی پُرسکون، سرسبز اور زندہ دنیا میں داخل ہوگئے ہوں۔ ہم وہیں بیٹھے اور شاہد صاحب سے گفتگو شروع ہوئی۔ بات ہوئی ملکی پودوں کی، امپورٹڈ ورائٹیز کی، پھلوں کی نئی اقسام اور پاکستان میں باغبانی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر۔ اور ایک بات سن کر واقعی خوشی ہوئی کہ آج پتوکی میں دنیا کے مختلف ممالک کی بہت سی منفرد اور نایاب ورائٹیز دستیاب ہیں۔ ریفریشمنٹ کے بعد میزبان شاہد صاحب نے ہمیں نرسری کا تفصیلی دورہ کروایا۔ جب انہوں نے بتایا کہ باغباں نرسری تقریباً نو ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے تو اندازہ ہوا کہ ہم ابھی تو صرف دروازے پر کھڑے ہیں۔ اندر جائیں تو ہر طرف پودوں کی دنیا۔ ہزاروں اقسام، ہر پودا اپنی شکل میں منفرد، ہر درخت اپنی کہانی لیے ہوئے اور ہر طرف زندگی ہی زندگی۔ ایک طرف ملازمین پودوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھے، جبکہ انہی درختوں پر پرندے بھی چہچہا رہے تھے۔ شاہد صاحب ہمیں سب سے پہلے لیموں کے حصے میں لے گئے، اور یہاں پہنچ کر ہماری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ ہمیں بتایا گیا کہ یہاں لیموں اور سٹرَس کی چالیس سے زائد ورائٹیز موجود ہیں۔ چالیس سے زائد! ایک ہی پھل… مگر شکلیں مختلف، سائز مختلف، خوشبو مختلف اور ذائقے بھی مختلف۔ شاہد صاحب نے بتایا کہ انہوں نے مختلف ممالک کا خود دورہ کیا اور وہاں سے پودے اور پھل منگوا کر ان منفرد ورائٹیز کو پاکستان میں متعارف کرایا۔ہرلیموں ایک سے بڑھ کر ایک،کسی ایک کو کاٹو تو ہاتھوں سے دیر تک خوشبو نہ جائے۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ اگر ایک نرسری میں لیموں کی اتنی اقسام موجود ہیں تو پوری پتوکی میں قدرت نے کیا کیا خزانے چھپا رکھے ہوں گے؟کہ شاہد صاحب نے یہ بتا کر مزید حیران کردیا کہ ان کے پاس دبئی سے امپورٹ کی گئی بیر کی ایک اعلیٰ ورائٹی بھی دستیاب ہے۔سائز ایسا کہ ایک بیر تقریباً پاؤ بھر کا! یعنی اندازہ لگائیے… سیب سے بھی بڑا بیر، اور ایک کلو میں صرف چار بیر! یہاں کھڑے ہوکر محسوس ہوا کہ دنیا میں پھلوں کی اقسام کے بارے میں ہمارا علم شاید ابھی بہت محدود ہے۔ پودوں کی اس خوبصورت دنیا سے واپس لوٹنے کو دل تو نہیں کررہا تھا، مگر عصر اور مغرب کا وقت سمٹ رہا تھا اور ہمیں پتوکی سے لاہور بھی واپس پہنچنا تھا۔چنانچہ پودوں کی خوبصورت یادیں اور یہ قیمتی لمحات سمیٹتے ہوئے ہم نے واپسی کی راہ لی۔بہرحال، پتوکی کے نرسری حب کا یہ وزٹ ہماری زندگی کے یادگار سفروں میں شامل ہوگیا، جس کی خوبصورت یادیں آج ہم اپنے ناظرین کے ساتھ شیئر کررہے ہیں۔ ویورز! اگر آپ میں سے کسی نے ابھی تک کلچر ٹی وی اے ایس جے کو سبسکرائب نہیں کیا تو فوری طور پر سبسکرائب کیجیے۔ ویڈیو پسند آئے تو لائیک ضرور کریں اور کمنٹ کرکے ہمیں بتائیں کہ پتوکی کی ان منفرد نرسریوں میں آپ کو کون سی ورائٹی سب سے زیادہ پسند آئی۔ملتے ہیں جلد ایک نئی ویڈیو کے ساتھ۔تب تک کے لیے…اللہ نگہبان!