Перейти к содержимому

درس قرآن [03] — سورہ لقمان | 12 تا 19 | حضرت لقمان علیہ السلام کی دس نصیحتیں— مفتی محمد سلمان زاھد

النور

0:00 / 0:00

درس قرآن [03] — سورہ لقمان | 12 تا 19 | حضرت لقمان علیہ السلام کی دس نصیحتیں— مفتی محمد سلمان زاھد

80 просмотров · 2 нед. назад
النور
3,31 тыс. подписчиков
80 просмотров · 2 нед. назад
سلسله دروس قرآن قرآن کریم کی منتخب آیات کا درس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درس نمبر : 03۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مـفـتی مـحـمـد سـلمان زاھـــد فاضل جامعه دار العلوم کراچی مسجد رحمانیه گلشن رفیع ملیر کراچی سورۃ لقمان کی آٹھ آیات (12۔ تا ۔ 19) دوسرا رکوع مکمل حضرت لقمان علیہ السلام کون تھے؟ حضرت لقمان علیہ السلام ایک نہایت حکیم اور دانا انسان تھے ، جنہیں قرآن کریم کے مطابق اللہ تعالیٰ حکمت و دانائی سے نوازا تھا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے بھانجے یا خالہ زاد بھائی تھے۔ پیشے کے اعتبار سے نجار (بڑھئی) تھے،بکریاں بھی چرایا کرتے تھے۔ رنگ و روپ اور ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے حبشی، بد صورت، سیاہ فام، چھوٹے قد، پست ناک، موٹے ہونٹ والے تھے۔ حضرت سید التابعین سعید بن مسیّب رحمہ اللہ کے پاس کوئی سیاہ فام شخص مسئلہ پوچھنے کی غرض سے آیا، تو حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ نے اُس کی تسلی کیلئے اِرشاد فرمایا:تم اپنے کالے ہونے پر غم نہ کرو، کیونکہ کالے لوگوں میں تین ایسے لوگ گزرے ہیں جو لوگوں میں سب سے بہتر تھے: حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ، حضرت مَھجع جوکہ حضرت عُمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، اور حضرت لقمان علیہ السلام ۔ حضرت لقمان علیہ السلام نبی تھے؟ جمہور کا اتفاق ہے کہ وہ نبی نہیں تھے۔اگرچہ ایک قول اُن کے نبی ہونے کا بھی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے، اس لئے جمہور نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ وہ اللہ کے ایک نہایت برگزیدہ اور حکیم اور دانا انسان تھے، اُن کی حکمت و دانائی اور اللہ کے نزدیک مقبولیت کیلئے یہی کافی ہے کہ اُن کا نام قرآن کریم میں آیا، اُن کے نام پر قرآن کریم میں پوری سورت موجود ہے ، اُن کی قیمتی اور حمت سے بھری ہوئی نصیحتوں کو اللہ نے قرآن کا حصہ بنایا حضرت لقمان علیہ السلام کے مقام اور مرتبہ کی وجوہات: حضرت لقمان علیہ السلام ایک روز ایک بڑی مجلس میں لوگوں کو حکمت کی باتیں سنا رہے تھے، ایک شخص آیا اور اس نے سوال کیا کہ تم وہی ہو جو میرے ساتھ فلاں جنگل میں بکریاں چرایا کرتے تھے ؟ لقمان علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں میں وہی ہوں، اس شخص نے پوچھا کہ پھر آپ کو یہ مقام کیسے حاصل ہوا کہ خلق خدا آپ کی تعظیم کرتی ہے اور آپ کے کلمات سننے کے لئے دور دور سے جمع ہوتی ہے۔ لقمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کا سبب میرے دو کام ہیں: ❶۔ ایک ہمیشہ سچ بولنا۔ ❷۔ دوسرے فضول باتوں سے اجتناب کرنا۔ ایک اور روایت میں یہ ہے کہ حضرت لقمان علیہ السلام نے فرمایا کہ چند کام ایسے ہیں جنہوں نے مجھے اس درجہ پر پہنچایا، اگر تم اختیار کرلو تو تمہیں بھی یہی درجہ اور مقام حاصل ہوجائے گا۔ وہ کام یہ ہیں: ❶ اپنی نگاہ کو پست رکھنا۔ ❷ زبان کو بند رکھنا۔ ❸ حلال روزی پر قناعت کرنا۔ ❹ شرمگاہ کی حفاظت کرنا۔ ❺ گفتگو میں سچائی پر اختیار کرنا۔ ❻عہد کو پورا کرنا۔ ❼ مہمان کا اکرام کرنا۔ ❽ پڑوسی کی حفاظت کرنا۔ ❾ فضول کام اور کلام کو چھوڑ دینا۔ (تفسیرابن کثیر۔ تفسیر معارف القرآن) حضرت لقمان علیہ السلام کی دس قیمتی نصیحتیں: ❶۔ شرک نہ کرنا۔ ❷۔ اللہ کاعلم علمِ مُحیط اوراُس کی قدرت قدرتِ کاملہ۔ ❸۔ اِقامتِ صلاۃ۔ ❹۔ اَمر بالمعروف۔ ❺۔ نہی عن المنکر۔ ❻۔ صبر اور ثابت قدمی۔ ❼۔ لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملنا۔ ❽۔ زمین مین اکڑ کر مت چلنا۔ ❾۔ چال میں میانہ رَوی۔ ❿۔ آواز کو پست رکھنا۔ دس نصیحتوں کی مضامین کے اعتبار سے تقسیم پہلی دونصیحتیں عقائد سے متعلّق ہیں۔(یعنی شرک، اور اللہ کاعلم، و قدرت) تیسری اِصلاح عمل سے متعلّق۔(یعنی نماز قائم کرنا) چوتھی،پانچویں اور چھٹی نصیحت اصلاح خُلق سے متعلّق۔(یعنی امر بالمعروف،نہی عن المنکر اور صبر و صابت قدمی) ساتویں،آٹھویں،نویں اور دسویں نصیحت کا تعلّق آدابِ مُعاشرت سےہے۔(یعنی خندہ پیشانی،تواضع و عاجزی،میانہ رَوی اور پست آواز)