Перейти к содержимому

درس قرآن [01] — سورہ انعام کی آیات | 151 تا 153 | وصیت نامہ— مفتی محمد سلمان زاھد

النور

0:00 / 0:00

درس قرآن [01] — سورہ انعام کی آیات | 151 تا 153 | وصیت نامہ— مفتی محمد سلمان زاھد

99 просмотров · 3 нед. назад
النور
3,31 тыс. подписчиков
99 просмотров · 3 нед. назад
سلسله دروس قرآن قرآن کریم کی منتخب آیات کا درس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درس نمبر : 01۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مـفـتی مـحـمـد سـلمان زاھـــد فاضل جامعه دار العلوم کراچی مسجد رحمانیه گلشن رفیع ملیر کراچی سورۃ الأنعام کی جامع ترین آیات تین آیات(151۔152۔153) آیات کی اہمیت: (1)۔توراۃ کی ابتداء انہی احکام سے ہے: کعب احبار رحمہ اللہ جو تورات کے ماہر عالم ہیں پہلے یہودی تھے، پھر مسلمان ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیات جن میں دس حرام چیزوں کا بیان ہے، اللہ کی کتاب تورات بسم اللہ کے بعد انہی آیات سے شروع ہوتی ہے۔ (2)۔تمام انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام کی شریعتیں بلا نسخ متفق ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”فِي الْأَنْعَامِ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ“یعنی سورۃ الانعام میں ذکر کردہ آیات محکم آیات ہیں(جو بالکل واضح ہیں،اور کبھی منسوخ نہیں ہوئیں) اور وہ کتاب اللہ کی اصل اور بنیاد ہیں۔(ابن کثیر) یعنی یہ وہ احکامات ہیں جن پر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام کی شریعتیں متفق رہی ہیں ان میں سے کوئی چیز کسی مذہب وملت اور کسی شریعت میں منسوخ نہیں ہوئی۔ (3)۔نبی کریمﷺکا مہر زدہ وصیت نامہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”مَنْ أَرَادَ أَنْ يَقْرَأَ صَحِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي عَلَيْهَا خَاتَمُهُ، فَلْيَقْرَأْ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ“ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا وصیت نامہ دیکھنا چاہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہو تو وہ ان آیات کو پڑھ لے، ان میں وہ وصیت موجود ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکم خداوندی اُمّت کو دی ہے۔(ابن کثیر) (4)۔ان احکام عشرہ پر آپﷺکا بیعت لینا: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام کو خطاب کرکے فرمایا : ”مَنْ يُبَايِعُنِي عَلَى هَذِهِ الْآيَاتِ ثُمَّ قَرَأَ {قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ} [الأنعام: 151] حَتَّى خَتَمَ الْآيَاتِ الثَّلَاثَ، فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنِ انْتَقَصَ شَيْئًا أَدْرَكَهُ اللَّهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا كَانَتْ عُقُوبَتَهُ، وَمَنْ أَخَّرَ إِلَى الْآخِرَةِ، كَانَ أَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ“۔(مستدرکِ حاکم:3240) کون ہے جو مجھ سے تین آیتوں پر بیعت کرے ۔ پھر یہی تین آیتیں تلاوت فرما کر ارشاد فرمایا کہ : جو شخص اس بیعت کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگیا،اور جس نے اس میں کوئی کمی کی اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اس کا مؤاخذہ فرمادیں گے جو اُس کیلئےاللہ کی جانب سے سزا ثابت ہوگی اور جس کی سزا کو اللہ نے آخرت کیلئے مؤخر کردیا اُس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے،اللہ چاہیں گے تو عذاب دیں گے اور چاہیں گے تو معاف کردیں گے۔(معارف القرآن،عثمانی) (5)۔ان احکام عشرہ کو اللہ تعالیٰ نے وصیت قرار دیا ہے: تین آیات میں تین مرتبہ اللہ تعالیٰ نے وصیت کہہ کر ان احاکم کو بیان کیا ہے۔ (6)۔یہ احکام رفعت و سربلندی کا ذریعہ ہیں: اس لئے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا کہ کہہ دیجئےاوراس کیلئے یہ انداز اختیار کیا کہ ”تعالوا“ کا لفظ ارشاد فرمایا، جس کا مطلب کسی کو آیات کا خلاصہ: احکامِ عشرہ یہ ہیں: ❶۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرانا۔ ❷۔ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔ ❸۔ فقر و افلاس کے خوف سے اولاد کو قتل کردینا۔ ❹۔ بےحیائی کے کام کرنا۔ ❺۔کسی کو ناحق قتل کرنا۔ ❻۔یتیم کا مال ناجائز طور پر کھا جانا۔ ❼۔ناپ تول میں کمی کرنا۔ ❽۔شہادت یا فیصلہ یا دوسرے کلام میں بےانصافی کرنا ۔ ❾۔اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا نہ کرنا۔ ❿۔اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر دائیں بائیں دوسرے راستے اختیار کرنا۔