Перейти к содержимому

آتے نہیں ہیں پھر بھی دل سے بھلا نہ پائیں - ایک اداس غزل

Anwar

0:00 / 0:00

آتے نہیں ہیں پھر بھی دل سے بھلا نہ پائیں - ایک اداس غزل

62 просмотра · 3 месяца назад
Anwar
31 подписчик
62 просмотра · 3 месяца назад
خوش آمدید! پیشِ خدمت ہے ایک دلکش اور پردرد عروضی غزل، جس کی ویڈیو میں ایک عالیشان کروز شپ (سمندری جہاز) کا سفر، سمندر کے لامتناہی اور خوبصورت نظارے، فضا میں اڑتے ہوئے آزاد پنچھی اور دھیمی، سحر انگیز دھن پر رقص کرتے لوگوں کے دلفریب مناظر شامل ہیں۔ یہ خوبصورت بصری مناظر غزل کے گہرے اشعار جیسے "موجیں اٹھی ہوں جیسے، آنکھوں سے اشک چھلکیں" اور "پنچھی کبھی نہ بننا دنیا بڑی شکاری" کی باطنی کیفیات کو پردے پر زندہ کرتے ہیں اور سننے والے کو ایک مسحور کن جذباتی سفر پر لے جاتے ہیں۔ غزل کے بول (Lyrics): سفینہِ اشک دشمن بنا نہ دل سے یاری نبھا نہ پائیں آتے نہیں ہیں پھر بھی دل سے بھلا نہ پائیں پنچھی کبھی نہ بننا دنیا بڑی شکاری آساں ہدف ملے تو پل بھی گوا نہ پائیں موجیں اٹھی ہوں جیسے، آنکھوں سے اشک چھلکیں چپ بھی رہا نہ جائے، ہچکی دبا نہ پائیں مانا کہ یاد تیری خوابوں میں آ کے چھیڑے رستے جدا ہیں لیکن خود کو جَتا نہ پائیں چھوٹی کلی ہے کیسی، ہوگی حسین وہ اب تو چھوڑا جہاں تھا اب تو، پیکر نیا نہ پائیں تیرا بھلا ہو ساقی، یوں ہی پلائے رکھنا خالی ہے جیب انور، قیمت ادا نہ پائیں کلام: محمد انور خان #UrduGhazal #CruiseShipPoetry # #anwarpoetry #newghazal #sadghazal OceanWavesShayari #SadGhazal #AnwarKhanPoetry #UrduShayari #PoetryLovers #SlowDanceMusic #flyingbirds