Syed Zameer Jafri recites his nazm کبھی اک سال میں ہم مجلسِ اقبال کرتے ہیں
Khursheed Abdullah
0:00 / 0:00
Syed Zameer Jafri recites his nazm کبھی اک سال میں ہم مجلسِ اقبال کرتے ہیں
1 583 просмотра · 7 дней назад
Khursheed Abdullah
72,2 тыс. подписчиков
1 583 просмотра · 7 дней назад
سید ضمیر جعفری
کبھی اک سال میں ہم مجلسِ اقبال کرتے ہیں
پھر اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوّال کرتے ہیں
وڈیو کے لیے شکریہ : محمد فاروق راؤ ( فائن لائن رکارڈز)
جو انساں نوعِ انسانی کا استحصال کرتے ہیں
نہایت ریشمیں الفاظ استعمال کرتے ہیں
کبھی اک سال میں ہم مجلسِ اقبال کرتے ہیں
پھر اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوّال کرتے ہیں
جہاں میں زور و زر والے، ہُنر والے، خبر والے
عموما دوسروں کا مال ۔۔ استعمال کرتے ہیں
گلہ کیسا گلی کوچے کی مخلوقِ فراواں کا
یہ وہ کرتے ہیں جو ان کے گُرو گھنٹال کرتے ہیں
بسا اوقات کُھلتا ہی نہیں منشا حسینوں کا
قمیصیں سبز رکھتے ہیں دوپٹّے لال رکھتے ہیں
جہاں کی تیز رفتاری کو روکا تو ہے کچھ ہم نے
ہمیں جو آج کرنا ہے وہ اگلے سال کرتے ہیں
کوئی دن تو طلوعِ عظمتِ انساں کا دن ہوگا
چلو ہم آج اپنا آپ استقبال کرتے ہیں
بچارہ مردِ مومن بھی تو آخر پیٹ رکھتا ہے
مجاہد لوگ بھی روٹی تو استعمال کرتے ہیں
میاں کا مشغلہ پوچھا تو بیوی نے یہ بتلایا
وہ پہلے ڈاکٹر تھے، آجکل ہڑتال کرتے ہیں
جزاک اللہ ضمیر اس تیرے طرزِ نَے نوازی پر
ترے اشعار آنسو ہیں مگر خوشحال کرتے ہیں
سید ضمیر جعفری