اولاد پاس ہو کر بھی دور ہو، تو تنہائی کیا ہوتی ہے، بابا جی سے پوچھیں۔ 💔
Saqib Allyana
0:00 / 0:00
اولاد پاس ہو کر بھی دور ہو، تو تنہائی کیا ہوتی ہے، بابا جی سے پوچھیں۔ 💔
339 просмотров · 12 дн. назад
Saqib Allyana
353 подписчика
339 просмотров · 12 дн. назад
زندگی کا اسی سالہ سفر دو چار آنسوؤں میں طے ہو جاتا ہے کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے ، لیکن وجہ ہر ایک کی اپنی ہوتی ہے ۔ اور سمجھ بھی کسی کسی کو لگتی ۔
یہ سمجھ سفید ہوئے بال ہی دے سکتے ہین ۔ وقت کے گرداب میں پھنسا شخص ہی سمجھ سکتا ہے کے مشکل اصل میں ہوتی کیا ہے۔
جب اپنی متاع حیات اولاد ہی منکر ہو جائے ۔
ایک سروے کے لیئے بھوآنہ کی تنگ گلیوں میں جانا ہوا، جہاں ایک بیوہ عورت اور ایک بیٹی، بیٹی جو سلائ کا کام کرتی اور اب اسکی شادی کا وقت اچکا ۔
وہان جو گھر کے حالات دیکھے گھر کیا تھا گھر مین قدم رکھا اور گھر ختم۔ کمرہ صحن سے 2 فٹ نیچے اور گلی سے 3 فٹ نیچے ۔ ایک کھولی نما ۔
۔۔۔۔۔۔
واپس پلٹے تو دو چار گھر پہلے یہ بزرگ بیٹھے نظر آئے، رب کو منظور ملنا ان سے۔ تو سلام اور حال احوال پوچھا
اس کے بعد حالات کا سفر شروع ہوا کہ کیسے زندگی گزری اور گزر رہی
بیوی پچیس سال پہلے فوت ہوگئ، ایک بیٹا جو شادی شدہ، تین بچے اسکے
بزرگ کی کل زندگی اس چھوٹے کمرے میں گزر رہی، جہاں دکان کا ایک چھوٹا سا سیٹ اپ جو کسی وقت شاید ہوتا تھا جب موچی کا کام چھوڑ کر دائیں ٹانگ کے سن ہو جانے کی وجہ سے گھر آن بیٹھا تو لگایا بابا جی نے تاکہ محلے میں دوکان چلے تو پیٹ پلے ۔ اور اب اس میں ہزارکا سامان بھی موجود نہیں ، صرف گھر میں موجود واشروم استعمال کرنے کی اجازت ہے ان کو۔
روٹی ہوٹل سے لیتا، ایک کھا لیتا، ایک بچ جاتی تو دوسرے ٹائم کھا لیتا ۔
سالن کوئی محلے والا دے جائے تو ٹھیک ورنہ سوکھی روٹی اور پاو دودھ ایک بندا مفت دیتا ہے اس کی 3 وقت چائے۔ بنا کر اسی سے کھا لینی ۔
کپڑے ایسے کہ کمرے میں بیٹھا نا جائے کہ بیوی کے فوت ہونے کے بعد خود ہمت ہو تو دھو لیتا، کی دفعہ ایسے ہی پہن لیتا
۔۔۔۔۔۔
صحت کے مسائل یہ کہ ساری عمر موچی کا کام کیا، تو بیٹھے رہنے کی وجہ سے ایک ٹانگ سن ہوچکی
اس کیساتھ سانس کا مسئلہ بھی کہ دن میں تین دفعہ نیبولایئزر استعمال کرنا پڑتا اور نیبولایئزر میں ڈالنے والی دوا جو محظ 66 روپے کی، اسکے پیسے بھی مشکل سے بنتے
موچی والا سامان اور پالش رکھی کہ کبھی کوئ شخص آ جاتا تو جوتے مرمت اور صاف کرکے کچھ مل جاتا
۔۔۔۔۔۔۔
دکھ ان تمام حالات میں بیٹے کی اس بے رخی کا جس نے اس سے کبھی عید پر بھی نہیں ملنے گوارا کیا۔ 3 پوتے ہیں جن کو بہو دادا کے کمرے میں داخل نہین ہونے دیتی ۔ بزرگ کا کمرہ گھر کے باہر والی سائیڈ پر ہے شروع میں ۔ جیسے بیٹھک ہوتی ہے ۔
ایک گھر میں ہی رہتے ہوئے
نا بچے مجھے کبھی عید پر ملے آکر نہ بیٹا۔
وجہ پوچھی تو بولے غربت ۔ کے بابا کچھ مانگ ہی نہ لے کھانے کو۔
غربت پہچان چھین لیتی ہے، مسائل انسان کو سوچ سے عاری کردیتے، رشتے پہچان سے انکار کردیتے
بیٹا بھی ان مسائل کا شکار کہ گلی کی نکر پر برف کے گولے بیچتا
اور کیا آمدن ہوگی جس سے تین بچے اور بیوی کا پیٹ پالنا اور گھر چلانا ہے اس نے۔
اٹھ کر آنے لگے کہ جلد کچھ عملی کر کے واپس آتے اور بتایا کہ فلاں گھر ہم آئے تھے
تو بولے کہ وہ میری بھابھی ہے جس بیوا کے پاس آپ گئے ہین ۔ حسب توفیق میں اسکی مدد بھی کرتا رہتا ہون ۔
سو پچاس ہون تو اس کو دے دیتا ہون۔
یہ وہ لمحہ کہ جہاں ہم بھی دنگ رہے گئے کہ صبر اور ہمت کا یہ مقام بھی آج دیکھنے کو ملا۔
آیک انسان کی خود پوری نہین پڑ رہی اور وہ اولاد سے بھی پاس ہوتے ہوئے دور ہے لیکن جیسے تیسے اس نے معاشرے مین حصہ ڈال رکھا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
زندگی کےایسے رخ دیکھنے کو ملتے ہیں اس فلاحی کام مین کے جس کے بعد واپسی پر سجدہ شکر ادا کرنے کے سوا اور کوئی کام نہین رہتا ۔
ہم شکر کیون نہ کرین کوئی وجہ نہین بچتی اس معاملے میں اختلاف کرنے واسطے ۔
۔۔۔۔۔۔
جلد ہی بابا جی کو دوکان مکمل کر دینی ہے باقی رب جانے اس کے بندے جانین ۔
#SaqibAllyana #Punjab