Перейти к содержимому

Tabish Dehlvi recites his ghazal بارِ حیات اُٹھائیے تنہا اُٹھائیے

Khursheed Abdullah

0:00 / 0:00

Tabish Dehlvi recites his ghazal بارِ حیات اُٹھائیے تنہا اُٹھائیے

3 703 просмотра · 1 год назад
Khursheed Abdullah
72,2 тыс. подписчиков
3 703 просмотра · 1 год назад
تابش دہلوی بارِ حیات اُٹھائیے تنہا اُٹھائیے یہ بوجھ آپ سے نہیں اُٹھتا اٹھائیے!! وڈیو کے لیے شکریہ : راہ ٹی وی بارِ حیات اُٹھائیے تنہا اُٹھائیے یہ بوجھ آپ سے نہیں اُٹھتا اٹھائیے! وحشت میں خاک اُڑانی ہی مقسوم ہے تو پھر اک مشتِ خاک کیا سرِ صحرا اُٹھائیے اِن خفتگانِ راہ کو ہمراہ لے چلیں قدموں کے ساتھ نقشِ کفِ پا اُٹھائیے بیمارِ عصر جلد شفایاب ہو سکیں گہوارے سے اِک اور مسیحا اُٹھائیے دنیا سے زندگی کا بڑا حوصلہ ملا احساں کی طرح ہر غمِ دنیا اُٹھایئے نادیدہ منظروں کو اگر چاہیں دیکھنا اپنی ہی ذات سے کوئی پردہ اُٹھایئے دل میں نفاذِ شوق کی طاقت کہاں سے لائیں کوزے میں کیا تلاطمِ دریا اُٹھائیے پا مردیوں سے گزرے ہیں جو راہِ شوق میں پلکوں سے اُن کی گردِ کفِ پا اٹھائیے تابشؔ سہارا لیجیے نہ امید و بیم کا تنہا کبھی حجابِ تمنّا اٹھائیے تابش دہلوی