17- دروس البلاغہ | جملے کے ارکان
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
17- دروس البلاغہ | جملے کے ارکان
178 просмотров · 2 дня назад
Allama Mansoor Maturidi
32,7 тыс. подписчиков
178 просмотров · 2 дня назад
جملے کے ارکان:
ہر جملے کے دو بنیادی رکن ہوتے ہیں: محکوم علیہ اور محکوم بہ
• محکوم علیہ = مسند الیہ = جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔
• محکوم بہ = مسند = اس کے بارے میں جو حکم لگایا جا رہا ہے۔
مثلاً: جَاءَ زَيْدٌ، ’’زید آیا۔‘‘
• زَيْدٌ = محکوم علیہ= مسند الیہ : کیونکہ بات زید کے بارے میں ہے۔
• جَاءَ = محکوم بہ = مسند : کیونکہ زید کے بارے میں ’’آنے‘‘ کا حکم لگایا گیا ہے۔
اسی طرح: زَيْدٌ قَائِمٌ، ’’زید کھڑا ہے۔‘‘
• زَيْدٌ = محکوم علیہ= مسند الیہ
• قَائِمٌ = محکوم بہ = مسند
پھر مصنف نے مسند الیہ اور مسند کی مثالیں دی ہیں:
جَاءَ زَيْدٌ میں زَيْدٌ = فاعل → مسند الیہ
جَاءَ = فعل → مسند
ضُرِبَ زَيْدٌ میں زَيْدٌ = نائب الفاعل → مسند الیہ
ضُرِبَ = فعل → مسند
زَيْدٌ قَائِمٌ میں زَيْدٌ = مبتدا → مسند الیہ
قَائِمٌ = خبر → مسند
دوسری بات یہ بتائی کہ کبھی مبتدا بھی مسند ہوتا ہے جب اسے خبر کی ضرورت نہ ہو
مثلا: أَ قَائِمٌ الزَّيْدُ؟ میں ہمزہ استفہامیہ کے بعد قَائِمٌ = مبتدا ہے اور مسند ہے
آگے چل کر مصنف یہ بتائیں گے کہ:
• کبھی مسند الیہ کو ذکر کرنا کیوں ضروری ہوتا ہے؟
• کبھی اسے حذف کیوں کیا جاتا ہے؟
• کبھی مسند کو پہلے کیوں لایا جاتا ہے؟
• کبھی مسند الیہ کو پہلے لانے میں کیا بلاغی فائدہ ہوتا ہے؟
مثلاً: زَيْدٌ جَاءَ، یہاں زَيْدٌ کو پہلے لایا گیا ہے۔ نحوی اعتبار سے یہ جملہ درست ہے، لیکن علمِ معانی یہ سوال کرے گا کہ زید کو پہلے لانے کی ضرورت یا بلاغی فائدہ کیا تھا؟
اسی لیے ’’مسند‘‘ اور ’’مسند الیہ‘‘ کی یہ تقسیم بابِ خبر کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
مسند الیہ اور مسند کی تعریفات:
وَلِكُلِّ جُمْلَةٍ رُكْنَانِ: مَحْكُومٌ عَلَيْهِ، وَمَحْكُومٌ بِهِ، وَيُسَمَّى الْأَوَّلُ «مُسْنَدًا إِلَيْهِ»، كَالْفَاعِلِ، وَنَائِبِهِ، وَالْمُبْتَدَإِ الَّذِي لَهُ خَبَرٌ،
اور ہر جملے کے دو رکن ہوتے ہیں: ایک ’’محکوم علیہ‘‘ اور دوسرا ’’محکوم بہ‘‘۔ پہلے کو ’’مسند الیہ‘‘ کہا جاتا ہے، جیسے فاعل، نائب فاعل اور وہ مبتدا جس کی خبر ہو۔
وَيُسَمَّى الثَّانِي «مُسْنَدًا» كَالْفِعْلِ، وَالْمُبْتَدَإِ الْمُكْتَفِي بِمَرْفُوعِهِ.
اور دوسرے کو ’’مسند‘‘ کہا جاتا ہے، جیسے فعل اور وہ مبتدا جو اپنے مرفوع کے ذریعے خبر سے بے نیاز ہو۔