19- دروس البلاغہ | فائدۃ الخبر | لازم فائدۃ الخبر
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
19- دروس البلاغہ | فائدۃ الخبر | لازم فائدۃ الخبر
47 просмотров · 21 ч назад
Allama Mansoor Maturidi
32,7 тыс. подписчиков
47 просмотров · 21 ч назад
فائدۃ الخبر:
وَالْأَصْلُ فِي الْخَبَرِ أَنْ يُلْقٰى لِإِفَادَةِ الْمُخَاطَبِ الْحُكْمَ الَّذِي تَضَمَّنَهُ الْجُمْلَةُ، كَمَا فِي قَوْلِنَا: «حَضَرَ الْأَمِيرُ».
اور خبر میں اصل یہ ہے کہ اسے مخاطب کو وہ حکم بتانے کے لیے بیان کیا جائے جو جملے میں موجود ہے، جیسے ہمارا کہنا: ’’امیر حاضر ہوگیا۔‘‘
اس میں مخاطب کو ایک نئی بات معلوم ہوئی کہ امیر حاضر ہوگیا۔ اسی کو فائدۃ الخبر کہتے ہیں۔
لازم ِفائدۃ الخبر:
أَوْ لِإِفَادَةِ أَنَّ الْمُتَكَلِّمَ عَالِمٌ بِهِ، نَحْوُ: «أَنْتَ حَضَرْتَ أَمْسِ».
یا یہ بتانے کے لئے کہ متکلم اس حکم (بات) سے واقف ہے، جیسے: ’’تم کل آئے تھے۔‘‘
وَيُسَمَّى الْحُكْمُ «فَائِدَةَ الْخَبَرِ»، وَكَوْنُ الْمُتَكَلِّمِ عَالِمًا بِهِ «لَازِمَ الْفَائِدَةِ».
اور ایسے حکم کو فَائِدَةُ الْخَبَرِ کہا جاتا ہے، جبکہ متکلم کا اس حکم سے واقف ہونا ’’لازمُ فائدۃِ الخبرِ‘‘ کہلاتا ہے۔