23- دروس البلاغہ | امر کے صیغے
Allama Mansoor Maturidi
0:00 / 0:00
23- دروس البلاغہ | امر کے صیغے
65 просмотров · 19 ч назад
Allama Mansoor Maturidi
32,7 тыс. подписчиков
65 просмотров · 19 ч назад
عربی زبان میں امر چار قسم کے صیغوں کی صورت میں آتا ہے۔فعل امر، وہ مضارع جس پر لامِ امر ہو، وہ اسمائے افعال جن کو امر کے لئے وضع کیا گیا ہے اور وہ مصدر جو فعل امر کے قائم مقام ہو
وَلَهُ أَرْبَعُ صِيَغٍ:
اور امر کے چار صیغے ہیں۔
1-فِعْلُ الْأَمْرِ، نَحْوُ: [ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ] [مريم: ١٢]،
فعلِ امر، جیسے: ’’کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو۔‘‘
2-وَالْمُضَارِعُ الْمَقْرُونُ بِاللَّامِ، نَحْوُ: [ لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ ] [الطلاق: ٧]،
اور وہ مضارع جس میں لامِ امر لگا ہو، جیسے: ’’وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے۔‘‘
3-وَاسْمُ فِعْلِ الْأَمْرِ، نَحْوُ: «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ»،
اور اسمِ فعلِ امر، جیسے: «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» یعنی ’’فلاح کی طرف آؤ۔‘‘
4-وَالْمَصْدَرُ النَّائِبُ عَنْ فِعْلِ الْأَمْرِ، نَحْوُ: «سَعْيًا فِي الْخَيْرِ».
اور وہ مصدر جو فعلِ امر کے قائم مقام ہو، جیسے: «سَعْيًا فِي الْخَيْرِ» یعنی ’’خیر کے کام میں کوشش کر۔‘‘