Перейти к содержимому

بارش کی اہمیت و فوائد اور اُس کے آداب ✦ مفتی محمد سلمان زاھد ✦ Barish K Fwaid & Aadab. Salman Zahid

النور

0:00 / 0:00

بارش کی اہمیت و فوائد اور اُس کے آداب ✦ مفتی محمد سلمان زاھد ✦ Barish K Fwaid & Aadab. Salman Zahid

30 просмотров · 2 дн. назад
النور
3,31 тыс. подписчиков
30 просмотров · 2 дн. назад
مفتی محمد سلمان زاہد فاضل جامعه دار العلوم کراچی مسجد رحمانیه گلشن رفیع ملیر کراچی بارش کی اہمیت و فوائد اور اس کے آداب بارش اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نہایت انوکھی نشانی ہے۔(0:45) اس پر غور کرنے کیلئے کوئی سائنسی علوم اور معلومات کا ہونا ضروری نہیں۔(1:11) قرآن کریم میں اس قدرت کی نشانی کا بکثرت تذکرہ کیا گیا اور غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔(1:35) بارش کو قرآن کریم میں اللہ کی رحمت کہا گیا ہے۔ (الروم)۔(2:53) بارش اللہ کی جانب سے ایک بابرکت چیز ہے۔(قٓ)۔(4:05) بارش کے پانی کو اللہ تعالیٰ نے طھور یعنی پاکیزہ اور پاک کرنے والا قرار دیا ہے۔(الفرقان)۔(5:00) بارش کے ذریعہ انسانوں کو بےشمار چیزیں ملتی ہیں، جن کا تعلّق صرف کھانے پینے سے ہی نہیں ۔ چنانچہ و فی السماء رزقکم و ماتوعدون ۔(الذاریات)۔(5:47) بارش کا قدرتی نظام جو ایک سرکل کی صورت میں چلتا ہے اُس میں غور کرنے والوں کیلئے کتنی نشانیاں ہیں۔(7:27)(10:47) بارش کا نظام اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کی طرح سسٹمائز کرتے ہوئے وقت اور میعاد کے ساتھ نہیں رکھا کہ پہلے سے بارش کا پتہ چل جائے بلکہ یہ خالصۃ اپنے ہاتھ میں رکھا ہے جس کا کسی کو نہیں معلوم ، اس میں بھی بڑی حکمتیں ہیں تاکہ بندے بارش کیلئے اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع کریں اور اُس سے مانگیں، اور اُن گناہوں سے بچیں جن کی وجہ سے بارشیں رُک جاتی ہیں۔(8:29) بارش اللہ ہی نازل کرتے ہیں، کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کب نازل ہوگی۔(11:29) بارش کے بارے میں غلط جملے بولنے سے بچنا چاہیئے کہ فلاں نے کہا ہے اب تو بارش ضرور ہوگی۔(12:35) بارش کے احکام و آداب: (13:23) یعنی بارش سے متعلّق ہمارے لئے کرنے کے کام یہ ہیں: ❶—غور و فکر اور تفکر کرکے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا۔(الفرقان۔و لقد صرفناہ بینھم لیذکروا)۔(13:31) ❷—بارش کے نزول کو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی جانب منسوب کریں، کسی اور کی جانب نسبت نہ کریں۔(14:37) یعنی ستاروں اور برجوں کی جانب نسبت نہ کریں۔ اسی میں یہ بھی داخل ہے صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ ٹہرے ہوئے تھے ، رات کو بارش ہوئی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ آج کی رات کچھ لوگوں نے ایمان والی بات کہی اور کچھ نے کافرانہ بات کہی۔ جس نے بارش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی اُس کی بات ایمان والی ہے اور جس نے بارش کو ستارے کی طرف منسوب کیا اُس نے کفر والی بات کہی۔ (بخاری)۔(15:24) لہٰذا بارش کے بعد یہ دعاء پڑھنی چاہیئے: (17:20) مُطِرنا بِفَضْلِ اللہِ وَ رَحْمَتِہٖ ❸—بارش کو بُرا نہ کہیں، اگرچہ اُس کی وجہ سے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو، کیونکہ بارش یا ہوا اور موسم سب اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں۔(18:39) ایک شخص کی چادر ہوا سے گرگئی اُس کے منہ سے ہوا کیلئے لعنت کے الفاظ نکل گئے آپ نے اُس کو منع کیا ۔(19:50) بارش کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر اپنے اعمال کے اعتبار سے غور کرکے اس کی اصلاح کرنی چاہیئے۔(20:30) ہم طوفان اور زلزلوں میں بھی مسجد کی جانب نہیں بلکہ سوشل میڈیا اور اسکرینوں کی طرف رخ کرتے ہیں، جبکہ ایسے حالات میں صحابہ مسجدوں کی جانب رخ کرتے تھے۔(21:57) تین ایسے اعمال جن کی برکت سے اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کا فیصلہ واپس لے لیتے ہیں۔(22:55) قوموں کے حالات اور تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں، اُن کیلئے جب عذاب کا فیصلہ ہوتا ہے تو وہ عذاب سے ایسے ہی بےخوف اور مامون ہوکر بیٹھ جاتے ہیں کہ عین عذاب کے وقت بھی جب عذاب کے بادل منڈلارہے ہوتے ہیں تو اُس وقت بھی اُنہیں کوئی ڈر اور خوف نہیں ہوتا۔(24:21) ❹—اپنے اعمال پر کا جائزہ اور احتساب کرنا۔(25:31)